ہندوستان کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف سازش کے لئے گلمرگ سمیت پانچ مقامات میں داعش کے تربیتی کیمپ چلا رہا ہے ، پاکستان کا عالمی برادری کو ڈوزئیر جاری
No image اسلام آباد ( کشیر رپورٹ) پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ ہندوستانی حکومت مقبوضہ کشمیر کے گلمرگ علاقے کے علاوہ ہندوستان کے علاقوں رائے پور، جودھپور، انوپ گڑھ اور بیکانیر میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش) کے پانچ کیمپ چلا رہی ہے اور ہندوستان وہاں سے تربیت پانے والوں کوہندوستانی مقبوضہ کشمیر بھیج کر وہاں کی آزادی کی مزاحمتی تحریک کو بدنام کرنے کی سازش کر سکتا ہے۔
وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ، مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف اور وفاقی وزیرِ برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی خصوصی پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان نے ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈین فوج کے مبینہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک تفصیلی دستاویز کا اجرا کیا ہے، جو پریس کانفرنس میں پیش کی گئی۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات پر مجبور کرنے کے لیے عالمی برادری کو آگاہ کرنا ضروری ہے اور یہ دستاویز اسی سمت میں ایک قدم ہے۔ہندوستان حکومت کی سرپرستی میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے تربیتی کیمپ شدید تشویش کا باعث ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان ریاستی تربیت یافتہ داعش کے جنگجوئوں کو بھیج کرکوشش کر سکتا ہے کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کو بین الاقوامی دہشتگردی سے جوڑا جائے تاکہ آزادی کی جدوجہد کو بدنام کیا جا سکے اور اپنے جرائم کو انسدادِ دہشتگردی آپریشنز قرار دیا جائے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں صورتحال اور وہاں موجود حکومت کی سوچ کو دیکھتے ہوئے 'ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والی حکومت کا حقیقی چہرہ عوام کے سامنے لائیں۔ اس دستاویز میں موجود زیادہ تر حوالے بین الاقوامی اور انڈین میڈیا اداروں کے ہیں یا پھر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے ہیں۔ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مواصلاتی پابندیاں ہیں اور صحافیوں اور مبصرین کو وہاں تک رسائی نہیں دی جاتی جبکہ حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے اور ظلم و ستم کو جان بوجھ کر سامنے نہیں آنے دیا جاتا۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ دستاویز کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں پہلا حصہ انڈین فوج کے جنگی جرائم اور نسل کشی پر مبنی اقدامات، دوسرا حصہ کشمیریوں کی مایوسی اور وہاں پنپنے والی مقامی مزاحمت، اور تیسرا حصہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کا احاطہ کرتا ہے، جن کے تحت وادی میں آبادیوں کی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ اس دستاویز کو بیرونِ ملک موجود پاکستانی مشنز اور متعدد دیگر فورمز کو بھیجا جا رہا ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے لیے تمام طریقے استعمال کیے جائیں گے۔


واپس کریں