اٹھمقام،سوشل میڈیا کے منفی استعمال اور غیر اخلاقی طرز عمل کے الزامات میں وصی خواجہ نامی شخص کی گرفتاری،مقدمے کا اندراج، ضلعی انتظامیہ کا بیان
No image نیلم 18ستمبر2021( کشیر رپورٹ) آزاد کشمیر کے ضلع نیلم کے علاقے اٹھمقام میں سوشل میڈیا کے حوالے سے وصی خواجہ نامی ایک شخص کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا گیا ہے۔اس کی گرفتاری کے بعد گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا گیا جس میں وصی خواجہ پر لگائے جانے والے الزامات اور تمام صورتحال بیان کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ
'' وصی خواجہ کے خلاف مختلف محکموں کے افسران اور شرفا کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے، گالم گلوج، افواہ سازی اور جھوٹ پر مبنی سوشل میڈیا پر لگائے جانے والی خبروں کی وجہ سے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیاہے۔سوشل میڈیا پر اداروں،آفیسران، عوام اور شرفا کے خلاف غیر اخلاقی مواد،پگڑیاں اچھالنے اور کار سرکار میں بے جا مداخلت پر مختلف محکمہ جات کی ڈپٹی کمشنر نیلم کو شکایات تھیں جنہیں ایس پی نیلم کو بھیجاگیا۔ جس پر وصی خواجہ کے خلاف ایف آر درج ہوئی۔ اس کے علاوہ وصی خواجہ کو اپنی صفائی پیش کرنے کا بھی مکمل حق ہو گا۔ وصی خواجہ اس سے قبل بھی مختلف جرائم میں مبینہ طور پر ملوث رہ چکا ہے۔ جس کے تحت 2020 میں بھی اس کے خلاف قانونی کارروائی ہو چکی ہے،وصی خواجہ عرصہ دراز سے مختلف اداروں اور لوگوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے اور لوگوں کی ذات پر حملے کرنے کے علاوہ گالم گلوچ کا مرتکب ہوتا رہا ہے، وصی خواجہ کو متعدد مرتبہ اپنا کردار درست کرنے اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کی تاکید کی، اس کے برعکس موصوف گورنمنٹ کے جملہ اداروں کے خلاف بے بنیاد من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی خبریں تخلیق کر کے افسران کے خلاف نازیبا زبان استعمال کا مرتکب ہوتا رہا ہے بلکہ جملہ صحافیوں کو اپنی ہر پوسٹ میں لنڈے کے صحافی اور بکا مال جیسے القابات سے نوازتے ہوئے گالم گلوج کے علاوہ عزت نفس کو مجروح کرنے کا مرتکب رہا ہے۔ مختلف ضلعی اداروں کی نشاندہی پر قانون کے تحت پولیس نے کارروائی کا آغازکیا ہے جس کا باقاعدہ ٹرائل سیشن کورٹ میں ہوتا ہے جہاں وصی خواجہ اداروں پر لگائے گئے جملہ الزامات کو ثابت کرنے کاپابند ہوگا،بصورت دیگر قانون کے مطابق پولیس کارروائی جاری رکھے گی،اس ضمن میں وصی خواجہ کو سپورٹ کرنے اور ایسا کرنے کی ترغیب دینے والے عناصر کی تلاش کے لیے بھی پولیس مصروف تفتیش ہے، تاہم جملہ حقائق عدالت کے سامنے لائے جائیں گے تاکہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والے عناصر کی سرکوبی کی جا سکے۔ ضلع نیلم میں گالم گلوج کے کلچر اور دوسروں کی عزت نفس پرذاتی عناد کی وجہ سے حملہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے تاکہ نیلم میں ایک صحت مند فکرو سوچ کا حامل معاشرہ تشکیل دیا جا سکے ایسا کرنے سے لوگوں کی ذات پر ذاتی دشمنی کی وجہ سے بغض اور عناد کی بنا پر کیچڑ اچھالنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے تاکہ امن اور انصاف کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں پولیس وصی خواجہ کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے بھی تفتیش کرے گی، کہ کون کون لوگ اس طرح کے کاموں میں معاونت کرتے ہوئے ترغیب دے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا انبکس کے علاوہ موبائل ڈیٹا کی تفتیش بھی کی جائے گی کہ کن کن لوگوں کی معاونت حاصل کرتے ہوئے اداروں اور لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا رہا ہے عوام علاقہ نیلم اطمینان رکھیں اور افواہ سازی پر دھیان نہ دیں، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی،انصاف ہو گا، عوام علاقہ نیلم کسی بھی شخص پر بھروسہ کرنے سے پہلے اس کا کردار جانچ لینا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا کی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے چند شرپسند عناصر اپنی ذاتی تشہیر اور سستی شہرت کے لیے عوام کو گمراہ کرتے ہیں جبکہ ایسے لوگوں کا معاشرے کی کردار سازی میں عملی کردار نہیں ہوتا جس کا سدباب ہونا ضروری ہے کچھ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اس گرفتاری کو غلط رنگ دے کر عوام علاقہ کی ہمدردیاں حاصل کر رہے ہیں جبکہ وصی خواجہ حکومتی آفیسران، شرفا اور بے قصور لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے، بے بنیاد الزام لگانے کے جرم میں گرفتار ہوا ہے''۔

وصی خواجہ کے فیس بک اکائونٹ کا لنک(https://www.facebook.com/wasi.khawaja.75) ہے۔ اس کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر سے نیلم ویلی کے مختلف امور و عوامی مسائل وغیرہ بیان کرتا ہے۔اس کی کئی پوسٹوں میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ تو دیکھنے میں آیا ہے تاہم اس کے خلاف سنگین الزامات میں مقدمے کا اندراج ضرورت سے زائد سختی پر مبنی ہو سکتاہے۔ضرورت سے زیادہ سخت کاروائی سے یہ معاملہ خوامخواہ ایک اشو بن سکتا ہے اور مذکورہ نوجوان مزید منفی رجحانات کی جانب مائل ہو سکتا ہے۔
واپس کریں