مسٹ یونیورسٹی میر پور میں بے ضابطگیاں، وائس چانسلر ،رجسٹرار کے اختیارات دو افسر بھائی استعمال کرنے لگے
No image میر پور( نمائندہ خصوصی ) آزاد کشمیر کی'' میر پور یونیورسٹی سائینس اینڈ ٹیکنالوجی''( مسٹ) انضباطی کمیٹی کے سربراہ اور ڈائریکٹر فنانس کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہی ہے، مسٹ یونیورسٹی میر پور شعبہ فزکس اورمعائینہ کمیٹی کے سربراہ اور ڈائریکٹر فنانس از خود وائس چانسلر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے تمام قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ وائس چانسلر کی ساکھ کر بھی متاثر کر رہے ہیں، مسٹ میر پور کے شعبہ فزکس اور انضباطی کمیٹی کے سربراہ خضرالحق اور ڈائریکٹر فنانس ظفر اقبال، جو آپس میں بھائی ہیں، ملی بھگت سے ناجائز طور پر اپنی حاکمیت چلا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بریگیڈئر ریٹائرڈ پروفیسرڈاکٹر محمد یونس جاوید، جو 25جون2021کو مسٹ کے وائس چانسلر مقرر کئے گئے۔مسٹ یونیورسٹی میر پور کے خضرالحق جو فزکس ڈیپارٹمنٹ کے بھی چیئر مین ہیں، کو ایک نیا عہدہ بناتے ہوئے معائینہ کمیٹی کا سربراہ بھی بنایا گیا ہے۔30اگست2021 کورجسٹرار خضرالحق کو ' 'یونیورسٹی ایمپلائز ریکارڈ کولیکشن اینڈ ویریفیکیشن کمیٹی'' کا کنوینئر( سربراہ) بنایا گیا اور ظفراقبال کو ڈائریکٹر فنانس بنایا گیا۔
یونیورسٹی ملازمین کے مطابق وائس چانسلر کے اختیارات خضرالحق اور ظفراقبال استعمال کر رہے ہیں ، خضر الحق ہر وقت وی سی آفس میں پایا جاتا ہے ،ظفر اقبال وی سی کی نگرانی پر مامور رہتا ہے تاکہ وی سی کو حقائق کا علم نہ ہو۔ حالیہ ٹرانسفرز اور تقرریاں دونوں ( خضر الحق اور ظفر اقبال)کے کہنے پر کی جا رہی ہیں۔ یونیورسٹی پر مفاد پرست ٹولہ قابض ہے۔ وی سی ان کے نرغے میں ہیں۔مسٹ کے وائس چانسلر اور رجسٹرارکے اختیارات خضر الحق اور ظفر اقبال استعمال کر رہے ہیں۔ان کی ماورائے قواع د و ضوابط من مانی کاروائیوں کی وجہ سے مسٹ یونیورسٹی میر پور میںلاقانونیت عروج پر ہے یونیورسٹی میں ایسی بدنظمی کی کوئی مثال نہیں ملتی وائس چانسلر کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے. یونیورسٹی جیسے ادارے میں ایسی سکہ شاہی گمان سے باہر ہے۔ یاد رہے نائب حسین کے وائس چانسلر بننے پر بھی دونوں بھائیوں نے آزادکشمیر یونیورسٹی سے مسٹ میں ٹرانسفر ز کروائی تھی سیاسی سفارش پر ایک بھائی معائینہ کمیٹی کا سربراہ بن بیٹھا اور دوسرا ٹریثرز بن گیا ۔خضرالحق رجسٹرار کے اختیارات بھی خود استعمال کر رہا ہے۔
اطلا عات کے مطابق تین ماہ کے اندر ہی پبلک, فیکلٹی, طلبااور یونیورسٹی ملازمین نے رجسٹرار خضر الحق کے خلا ف شکایات کے انبار لگا دیئے جس پر صدر/چانسلر نے تمام معاملے کا جائزہ لینے کے بعد اسے اپنے حکم سے بر طرف کر دیا (حکم کی عکسی نقل منسلک ہے )۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ صدر /چانسلر کے تحریری حکم کے ذریعے رجسٹرار کو بر طرف کیا گیا ہو اور اس طرح اسے کسی بھی انتظامی پوسٹ پر تعیناتی کے لئے نا اہل قرار دیا گیا۔ لیکن موجودہ وائس چانسلر کو انہوں نے رام کر لیا اور وہ ان کی مر ضی سے یونیورسٹی چلا رہے ہیں۔
خضرالحق کا دوسرا بھائی ظفر اقبال پہلے بھی چھ سال سے زائد عر صہ ٹر یثرز رہ جکا ہے۔ اسے عوام الناس کی شکایات اور کرپشن پر ٹریثرز کے عہدے سے بر طرف کیا گیا تھا لیکن ڈاکٹر مقصود احمد نے سیاسی دبائو پر دوبارہ اسے ٹریثرز تعینات کر دیا اور اب دوبارہ کرپشن میں مصروف ہے۔ ظفر اقبال کے خلاف کرپشن کے کیسز نیب میں بھی زیر کار ہیں جن میں سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی ذاتی استعمال ، جعلی میڈیکل بلات، ٹی اے/ ڈی اے کے جعلی بلات ،جعلی پارٹ ٹائم ٹیچنگ بلات اور خریداریوںز میں بھی کرپشن کے متعدد الزامات ہیں۔ ان کے خلاف عزیز واقارب کو بھرتی کرنے کے الزامات کے تحت بھی نیب میں انکوائری جاری ہے۔ انہوں نے اپنے ایک رشتہ دار کو راولاکوٹ سے ٹرانسفر کرایا اور وائس چانسلر سے اسے مسٹ میں ڈائریکٹر کے عہدے پہ تعینات کرا دیا۔یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ ان کے اس رشتہ دار کی ڈگری زراعت میںہے جبکہ مسٹ یونیورسٹی میں زراعت پڑھائی ہی نہیں جاتی۔
انہوں نے یونیورسٹی پالیسی اور طریقہ کار کے برعکس اپنے ایک آلہ کار کی بطور لیگل ایڈوائزر وائس چانسلر سے تقرری کروائی ہے۔ طریقہ کار کے مطابق یونیورسٹی میرپور بار سے اچھی شہرت کے حامل وکلا کا پینل طلب کرتی ہے اور بار کونسل کے پینل میں سے ایک موزوں وکیل صاحب کا بطور لیگل ایڈوائزر تعیناتی کی جاتی ہے۔ لیکن ان دونوں بھائیوں نے وائس چانسلر کو اندھیرے میں رکھ کر غیر قانونی تعیناتی کروا لی اس طرح شعبہ جات میں میرٹ کے برعکس تقرریاں کی گئی ہیں.۔ طریقہ کار کے مطابق تمام تقرریاں بذریعہ این ٹی ایس متعلقہ کمیٹیوں کی سفارشات پر کی جاتی ہیں، لیکن انہوں نے این ٹی ایس کے بغیر کم میرٹ اور اہلیت رکھنے والے امیدواروں کی تقرریاں کی ہیں۔. حیران کن طور پر یونیورسٹی نے تمام صورتحال واضح ہونے کے باوجود اب تک ان کے خلاف کوئی کروائی نہیں کی ہے۔
مسٹ کے تمام ملازمین ان دونوں بھائیوں کی منفی سرگرمیوں سے تنگ آچکے ہیں اور ان کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں۔ ایڈمن سٹاف ایسوسی ایشن نے ان دونوں بھائیوں کے رشتہ داروں کی بھرتی کے خلاف ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ملازمین کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر ان دونوں بھائیوں کے اشاروں پہ چل رہے ہیں۔ ملازمین کو جائز مراعات سے محروم کیا جار ہا ہے ملازمین کو تنگ کرنا اور انہیں دھمکیاں دینا انکا معمول ہے۔ اگر کوئی ملازم ان کے غیرقانونی کام کرنے میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو اسے دوسری جگہ ٹرانسفر ز کر دیتے ہیں۔اس وقت یونیورسٹی ان دونوں بھائیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مسٹ یونیورسٹی کے خضرالحق اورا بھائی ظفر اقبا ل دونوں کے ریسرچ تھیس نقل مارکہ ہیں، دونوں نے دوسروں کا کام چوری کر کہ تھیس تیار کئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق میر پور یونیورسٹی کے تحت ہونے والے' بی اے' کے امتحان میں17ستمبرکو انگریزی کا پرچہ آئوٹ ہو گیا ۔آزادکشمیر یونیورسٹی میں آج تک کبھی کوئی پرچہ آئوٹ نہیں ہوا۔اس واقعہ سے بھی مسٹ یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ اگر حکومت نے مسٹ یونیورسٹی میر پور کی اس صورتحال پر بر وقت اصلاح واحوال نہ کی تو یونیورسٹی کو نا قابل تلافی نقصان ہو سکتاہے۔

واپس کریں