نئی سرد جنگ شروع نہیں کر رہے، دنیا میں آزادی ،حقوق کے لئے کردار ادا کریں گے، صدر بائیڈن کی جنرل اسمبلی میں تقریر
No image واشنگٹن 21ستمبر2021( کشیر رپورٹ) امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے76 ویں اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، انسانی مصائب اور آمریت کے خلاف اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو انسانی وقار کو گلے لگائیں گے ، اسے پامال نہیں کریں گے، مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو اپنے لوگوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں ، ان لوگوں کا نہیں جو اسے دباتے ہیں، مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو اپنے لوگوں کو سانس لینے کی صلاحیت دیتے ہیں، وہ لوگ آزاد نہیں جو آہنی ہاتھوں سے اپنے لوگوں کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں، آمریت پسند دنیا سے جمہوریت کے دور کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ غلط ہیں۔'' اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی اس تنقید کہ '' امریکہ چین کے ساتھ سرد جنگ شروع کر رہا ہے''، کے جواب میں امریکہ صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ نئی سرد جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔ امریکہ بین الاقوامی شراکت داری میں دوبارہ شمولیت کے لیے تیار ہے۔
اس وقت امریکہ کو درپیش صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے اور انہیں یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اتحادی ممالک کے ساتھ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے اقدامات دہرائے نہیں جائیں گے۔افغانستان سے افراتفری میں نکلنے کے معاملے پر بھی اتحادی ممالک کے ساتھ امریکی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔امریکہ کو آسڑیلیا اور برطانیہ کے ساتھ سب میرین معاہدے کے خاتمے کا معاملہ درپیش ہے جس وجہ سے امریکہ کے فرانس سے بھی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔
ایک طرف امریکی صدر جو بائیڈن نئی سرد جنگ شروع کرنے سے انکار کرتے ہیں اور دوسری طرف چین کے خلاف نئے فوجی اتحاد بھی قائم کرنے پر توجہ دے رہے ہیںاور ہندوستان کو چین کے خلاف جنگی سطح پہ بھی اپنا اتحادی بنا رہے ہیں۔اس طرح عالمی سیاست میں نئے جنگی اتحاد بناتے ہوئے امریکہ کی جو بائیڈن انتظامیہ نئی سرد جنگ کی نئی بنیادیں قائم کرتے نظر آ رہی ہے۔
صدر بائیڈن انسانی حقوق ، آزادی اورآمریت کے خلاف عزم تو ظاہر کرتے ہیں لیکن ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہ عنوانات سیاسی محاذ آرائی میں آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ہندوستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں، آزادیوں کے خلاف ظالمانہ قوانین کے نفاذ، اقلیتوں اور حقوق مانگنے والوں کے خلاف بد ترین فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ انسانی حقوق،آزادی کو اپنے سیاسی مفادات پر قربان کرتے نظر آتی ہے۔ صدر بائیڈن نے امریکہ کی صدارت سنبھالنے سے پہلے مسئلہ کشمیر حل کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا تھا لیکن اب صاف نظر ّآ رہا ہے کہ صدر بائیڈن کی امریکی انتظامیہ مسئلہ کشمیر کو ہندوستان کے حق میں جابرانہ طور پر حل کرنے کے اقدامات کی حمایت اور پشت پناہی کر رہی ہے۔
واپس کریں