تمام کشمیر ی گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کے خلاف ہیں، یہ کشمیر کاز کے لئے نقصاندہ فیصلہ ہے، راجہ حبیب جالب چیئرمین ہیومن رائٹس کونسل
No image پیرس( کشیر رپورٹ)عمران خان کے مودی کے ساتھ یک طرفہ معاہدے سے گلگت بلتستان کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ، مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنمائوں اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس سے مسئلہ کشمیر ،کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچے گا۔ کشمیر کا مسئلہ کشمیر کے تمام اطراف سے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے بغیر دوسروں کے ذریعے طے نہیں کیا جا سکتا۔ راجہ حبیب جالب صدر انسانی حقوق ونگ کشمیر یکجہتی کونسل چیئرمین جموں و کشمیر انسانی حقوق کونسل بین الاقوامی و نگ 'کے کے پی ایس آئی'، جموں و کشمیر ہیومن رائٹس کونسل انٹرنیشنل ونگ کے چیئرمین اور صدر ہیومن رائٹس ونگ کشمیر سولیڈیرٹی کونسل نے پاکستانی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کو پاکستانی صوبے کے طور پر تبدیل کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے یہ غیر قانونی اور خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی قانون اور پاکستانی پالیسی میں تبدیلی بھارت کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور نسل کشی جاری رکھنے کا مزید موقع فراہم کرے گی۔ وہ فرانس میں کشمیر پر انسانی حقوق کی تنظیم کے نمائندے سے بات کر رہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے لیے یکطرفہ اقدام کے بعد کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے اقدامات کر رہا ہے۔بھارتی وزیر اعظم مودی نے میڈیا کو کئی بار بتایا کہ خصوصی سٹیٹس لینے سے پہلے انڈیا نے پاکستان کے ساتھ اس ایکشن پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان نے ان کی منظوری دی اور اس کے فیصلے سے اتفاق کیا ۔
واپس کریں