وفاقی وزیر آزاد کشمیر میں مداخلت بند کریں،انتقامی تبادلے شروع ،PTIنے پیسے تقسیم کی روایت ڈالی،صوبہ بنانے کی مخالفت کرتے ہیں،شاہ غلام قادر
No image نیلم(کشیر رپورٹ) مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل ،سابق سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی سے ملاقات میں ان سے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں انتقام نہیں ہونا چاہئے،ہم نے وادی نیلم میں گزشتہ پانچ سال میں کوئی انتقام نہیں لیا لیکن اب نیلم ویلی کے دونوں حلقوں میں 280اساتذہ کے تبادلوں کی فائل تیار کی گئی ہے،محکمہ تعلیم کے علاوہ دیگر محکموں، جنگلات، محکمہ مال،پی ڈبلیو ڈی،ہر جگہ ایک جنگ کی سی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ شاہ غلام قادر نے نیلم پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے کہا کہ اگر حکومت جنگ کرنا چاہتی ہے،عوام سے لڑنا چاہتی ہے تو عوام لڑائی کے لئے تیار ہیں،اپنے حقوق کے لئے ہم لڑیں گے،لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اچھے ماحول میں یہ معاملات ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کرنا ایک آرٹ ہے اور یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں، نیلم میں سوائے تبادلہ جات کے اور کوئی کام نہیں ہو رہا ، پی ٹی آئی آپس میں ہی طے نہیں کر پا رہی کہ نیلم ڈویلپمنٹ بور ڈ کا چیئر مین کون ہو گا۔
سیکرٹری جنرل مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ اس الیکشن میں پی ٹی آئی نے پہلی بات نقد پیسے تقسیم کرنے کی روایت ڈالی ہے۔اس کے ذریعے بڑے بڑے لوگوں کو ،کسی کو الیکشن سے دو دن پہلے ،کسی کو چار دن پہلے خرید کر دوسری پارٹیوں میں لیجایا گیا اور پولنگ سٹیشوں پر رات کو نقد پیسے تقسیم کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے تمام اداروں سے کہوں گا کہ اگر لوگوں کے ووٹوں کو خریدنے کی اس روایت کو بند نہیں کیا گیا تو یہاں پاکستان دشمن قوتوں کے پاس زیادہ پیسہ ہے،وہ یہاں اپنے دو چار ایجنٹ اسمبلی میں بھیج کر کوئی ایسی گفتگو نہ کروا لیں کہ کل ہمیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی،اس کے ساتھ ساتھ میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستان کے وفاقی وزراء اب آزاد کشمیر میں مداخلت بند کر دیں،انہیں یہ اب بند کر دینا چاہئے، ان کی ہی پارٹی کی حکومت ہے، ان پر تو اعتبار کر لو۔آزاد کشمیر کا نظام مظفر آباد سے چلنا چاہئے ،اسلام آباد سے نہیں۔آزاد کشمیر کو اسلام آبا د سے چلانے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور میں یہ وزیر اعظم پاکستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کی بھی پارٹی کے مفاد میں ہے ، نہ کہ اسلام آباد سے لمبے بالوں والے آ کر آزاد کشمیر حکومت کو ڈکٹیٹ کریں۔اس سے آزاد کشمیر میں خرابی ہو گی۔
سوالات کے جواب میں شاہ غلام قادر نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بن سکتے،ہم اس کی مزاحمت کریں گے،جو ہمارے بس میں ہو گا ،جتنی طاقت ہو گی،وہ ہم کریں گے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر متحد ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے،ہر الیکشن کے بعد کوشش یہ ہوتی ہے کہ جماعت میں نئی تنظیم سازی کی جائے،ہم سب نے فیصلہ کیا ہے کہ ضمنی الیکشن کے بعد تنظیم سازی کی جائے گی،اس حوالے سے مرکز کو بتا بھی دیا ہے کہ ہمیں نئی تنظیم سازی کی ضرورت ہے۔نئی تنظیم سازی نیچے کی سطح سے اوپر تک کی جائے گی۔

واپس کریں