افغانستان کی صورتحال پرامریکی وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن سے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ملاقات
No image نیو یارک( کشیر رپورٹ)امریکی وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن نے گزشتہ روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور افغانستان کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ بلنکن نے افغانستان کے حوالے سے سفارتی کوششوں کو مربوط کرنے کی اہمیت اور افغانستان چھوڑنے کے خواہش مندوں کو واپسی میں سہولت دینے پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ ان دونوں کوششوں پاکستان کی مدد اور معاونت کو سراہتا ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر خارجہ بلنکن نے کہا کہ مجھے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اپنے دوست اور ہم منصب، وزیر خارجہ قریشی کے ساتھ ملاقات کر کے بہت خوشی ہوئی ہے۔ ان بہت سے مہینوں میں ہمیں فون پر ایک دوسرے سے بات چیت کے بہت سے مواقع ملے تاہم بالاخر اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہمیں ایک دوسرے سے بالمشافہ ملاقات کا موقع مل گیا ہے۔ ہم نے بہت سے موضوعات پر بات کرنا ہے جس میں ہم افغانستان اور اس مسئلے پر اکٹھے کام کرنے اور آگے بڑھنے کی اہمیت سے آغاز کریں گے۔ پاکستان کے کام کو سراہتے ہیں جو اس نے ان امریکی شہریوں کی افغانستان سے واپسی میں سہولت دینے کے لیے کیا جو ملک چھوڑنا چاہتے تھے۔ لیکن ہمیں اس کے علاوہ اپنے دوطرفہ تعلقات پر بھی بہت سی بات کرنا ہے جس میں دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون اور اس خطے میں اکٹھے کام کرنا بھی شامل ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق اس موقع پروزیر خارجہ قریشی نے کہا کہ آج ملاقات کے لیے وقت نکالنے پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ مجھے آپ سے بالمشافہ ملاقات کر کے خوشی ہوئی ہے۔ جیسا کہ آپ نے کہا، ہم نے تین مرتبہ ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں علاقائی اور افغانستان کی صورتحال زیربحث آئی۔ میں نے سوچا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب ہم افغانستان سے ہٹ کر بات چیت کر رہے ہوں گے تاہم یوں لگتا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ بدستور اپنی جگہ موجود ہے اور ہم اس سے صرف نظر نہیں کر سکے اور ہمیں امن و استحکام کے اپنے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے اکٹھے کام کرنے کی راہ تلاش کرنا ہے۔ لہذا یہ میرے لیے افغانستان میں تبدیل ہوتی صورتحال، باہمی تعلقات اور جنوبی ایشیا میں نازک حالات پر بات چیت کا ایک اچھا موقع ہے۔

واپس کریں