اوڑی سیکٹر میں دراندازی کا دوسرا واقعہ ہوا ہے، بھارتی فوج کا دعوی۔ '' وائس آف امریکہ''
No image سرینگر 24ستمبر2021( کشیر رپورٹ) ہندوستانی فوج نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے ۔ '' وائس آف امریکہ' نے سرینگر سے اپنے نمائندے یوسف جمیل کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارتی حکام کا دعوی ہے کہ متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر تازہ ترین مبینہ در اندازی میں عسکریت پسندوں سے ہونے والی جھڑپ میں تین مسلح افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ان کے ساتھیوں کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔بھارتی فوج کے ایک اعلی عہدے دار نے کہا ہے کہ اوڑی سیکٹر میں گزشتہ چھ روز کے دوران پیش آنے والا در اندازی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔بھارت اور پاکستان کے درمیان نومبر 2003 میں ہونے والے فائر بندی کے سمجھوتے کی رواں برس فروری میں تجدید کے بعد ایل او سی پر پیش آنے والا یہ اپنی نوعیت کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔بھارتی فوج اور مقامی پولیس ذرائع کے مطابق 18 ستمبر کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے مبینہ طور پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے والے مشتبہ عسکریت پسندوں کی تلاش جاری ہے۔بھارتی فوج کی پندرہویں کور جسے چنار کور بھی کہا جاتا ہے کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل دیوندر پرتاپ پانڈے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران در اندازی کا پہلا بڑا واقعہ ضلع بانڈی پور میں پیش آیا تھا۔ لیکن اس گروپ میں شامل تمام عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔کور کمانڈر نے اعلی پولیس عہدے دار انسپکٹر جنرل وجے کمار کے ہمراہ جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حالیہ واقعے میں تاحال تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے جنہیں ضلع بارہمولہ کے گھنے جنگلات سے گھرے ہتھلنگا علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے گھیر لیا تھا۔بھارتی فوج نے ایل او سی کے علاقے اوڑی میں 18 ستمبر کو ہونے والی مبینہ دراندازی کی خبر ملتے ہی اوڑی سیکٹر کے ایک وسیع علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا تھا۔اس کارروائی میں فوج کے پیرا کمانڈوز اور آرمی ایوی ایشن کور کے ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق جموں و کشمیر کی پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی)بھی اس کارروائی میں شامل ہو گئے تھے۔
سرینگر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل پانڈے اور انسپکٹر جنرل پولیس کمار نے بتایا کہ جمعرات کو در اندازوں کے خلاف کیے گئے آپریشن کے دوران پانچ اے کے 47 بندوقیں، سات پستول، 38 چینی اور سات پاکستانی ساختہ دستی بم، دو انڈر بیرل گرنیڈ لانچر اور 24 گرنیڈ برآمد کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کھانے پینے کا سامان اور پاکستانی کرنسی کے 35 ہزار روپے بھی برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تا حال ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں سے صرف ایک کی شناخت ہو سکی ہے جو پاکستانی شہری ہے۔ان کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے 18 ستمبر کو در اندازی کرنے والے عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے ابتدائی تبادلے میں ایک بھارتی فوجی زخمی ہوا تھا۔لیفٹننٹ جنرل پانڈے نے کہا کہ جمعرات کی صبح فوج کے جوانوں نے اوڑی سیکٹر میں ایل او سی پر در اندازں کے ایک گروپ کو بھارتی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔ جب انہیں للکارا گیا تو طرفین میں جھڑپ شروع ہوگئی جس میں تین دہشت گرد مارے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے 18 ستمبر کو کی گئی اسی طرح کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔اس سوال پر کہ کیا مبینہ در اندازی کے تازہ واقعے کا افغانستان یا طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نظر آتا ہے؟ ان کا کہنا تھا بھارتی فوج پوری طرح چوکس ہے۔ ہمیں اندازہ تھا کہ ستمبر میں پاکستان کی طرف سے رویے میں تبدیلی آسکتی ہے اور ستمبر کے مہینے میں یا موسمِ سرما کی آمد سے پہلے ایل او سی پر گھس پیٹھ ہوسکتی ہے۔
اس سے پہلے لیفٹننٹ جنرل پانڈے نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ رواں برس فروری کے آخری ہفتے کے بعد ایل او سی پر پاکستانی فوج کی طرف سے فائر بندی کے سمجھوتے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران اگرچہ عسکریت پسندوں کی طرف سے در اندازی کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکیں کیوں کہ انہیں ماضی کے برعکس پاکستانی فوج کی طرف سے فائرنگ کور نہیں فراہم کیا گیا تھا۔پاکستان بھارت کی جانب سے عائد کیے گئے دراندازی کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
واپس کریں