پاکستان اور انڈیا کے درمیان مزید ایک جنگ روکنے کے لئے مسئلہ کشمیر کاحل ناگزیر ہے،وزیر اعظم پاکستان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب
No image نیو یارک( کشیر رپورٹ)وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل تقریر میں کورونا وبا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس کے خلاف کامیابی دکھائی ہے۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کا ذکر کیا اور بلین ٹریز مہم کا ذکر کیا۔عمران خان نے پچیس منٹ کی تقریر میں کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کی حکمران ایلیٹ کلاس کرپٹ ہے، امیر اور غیر ملکوں کا فرق بڑہتا جا رہا ہے،سات ٹریلین ڈالرزملکوں سے چوری کر کے دوسرے ملکوں میں رکھا گیا ہے،اس سے ترقی پذیر ملکوں کو برے نتائج کا سامنا کرنا ہے،امیر ملکوں کو ایسی دولت کی منتقلی روکنا چاہئے۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ اسلام فوبیا اور مذہبی ہم آہنگی کی بات کی،اس کی بدترین شکل انڈیا میں ہے،ہندو واتا، نفرت والی ہندووتا آئیڈیالوجی،فاشسٹ آر ایس ایس،بی جے پی رجیم، خوف اور تشدد کا موجب دو سو ملین مسلمانوں کے خلاف،شہریت قانون مسلمانوں کے خلاف،مسجدوں کا خاتمہ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت جموں وکشمیر تنازعہ کا حل نہیں چاہتی،5اگست2019سے جبر اور تشدد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے،انڈیا کی نو لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں بدترین مظالم ڈھا رہی ہے،سینئر کشمیری رہنمائوں کو جیلوں میں قید رکھا ہے،میڈیا اور انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں ہیں،پرامن احتجاج پر تشدد کیا جاتا ہے،13ہزار نوجوان کشمیریوں کو پکڑا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا،سینکڑوں معصوم کشمیریوں کو ماروائے عدالت جعلی مقابلوں میں ہلاک کیا گیا،مقبوضہ کشمیر کے تمام علاقوں،دیہاتوں میں ظلم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے،پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کے بدترین مظالم ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کے حوالے سے ڈوزئیر پیش کیا ہے،مقبوضہ کشمیر میں ڈیموگریفک تبدیلیوں کے اقدامات کئے جا رہے ہیں،وہاں کی مسلم اکثریت کو مسلم اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے،انڈیا کے یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جموں وکشمیر کے بارے میں قرار دادوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں،سلامتی کونسل کی قرار دادیں واضح طور پر بیان کرتی ہیںکہ متنازعہ علاقے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں وہاں کے لوگوں کے آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے کرایا جائے،مقبوضہ جموں وکشمیر میں انڈیا کے اقدامات انٹرنیشنل ہیومن رائٹس اور انسانیت کے قوانین کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں،بشمول چوتھے جنیوا کنونشن،وار کرائمز اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ دنیا اس پر مناسب توجہ نہیں دے رہی،اپنے تجارتی ،سیاسی و دیگر مفادات کی وجہ سے بڑی طاقتیں مقبوضہ جموں وکشمیر کی اس بدترین صورتحال کو نظر انداز کر رہی ہیں،اس طرح کے دوہرے معیار سے آر ایس ایس اور بے جے پی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ان مظالم کو جاری رکھنے میں،اس حوالے سے تازہ ترین مثال عظیم کشمیری لیڈر سید علی شاہ گیلانی کی میت کو چھینے جانے کا ہے، ان کے خاندان کو ان کی تدفین سے روک دیا گیا اور انہیں ان کی وصیحت اور مسلم رواج کے مطابق تدفین نہیں کرنے دی گئی،یہ اقدام انسانیت کی بنیاد کے خلاف ہے،میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر زور دیتا ہوں کہ وہ مطالبہ کریں کہ سید علی شاہ گیلانی کی میت کی مزار شہداء میں تدفین کی جائے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان تمام ہمسایوں کی طرح انڈیا کے ساتھ امن کا خواہاں ہے،جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق جموں وکشمیر کے مسئلے کا حل ناگزیر ہے،فروری میں لائین آف کنٹرول پر سیز فائر کیا گیا،امید تھی کہ اس سے انڈیا اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے گا،لیکن اس کے برعکس انڈیا نے کشمیریوں کے خلاف جبر اور دبائو میں مزید اضافہ کر دیا،یہ انڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ساز گار ماحول کے اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے ساتھ بامعنی اور بامقصد مزاکرات ہو سکیں،اس کے لئے انڈیا کو 5اگست2019کے اقدامات واپس لینا ہوں گے،دوسرا یہ کہ کشمیریوں کے خلاف جبر اور تشدد کی کاروائیاں بند کی جائیں،نمبر تین کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ڈیموگریفک تبدیلیوں کی کاروائیاں بند کی جائیں،یہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مزید ایک جنگ روکنے کے لئے ضرور ی ہے،انڈیا کا فوجی طاقت میں اضافہ ، جدید ایٹمی ہتھیار اور خطے میں طاقت کے توازن کو خراب کرنا خطرناک ہے۔

افغانستان کے بارے میں پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا اور اس مسئلے سے پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان کی موجودہ حکومت کو مضبوط کرنا چاہئے،اسے مستحکم کرنا چاہئے،افغانستان کے لوگوں کے مفاد کے لئے،طالبان نے انسانی حقوق کے احترام، مخلوط حکومت کے قیام، افغانستان کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے اور عام معافی کے وعدے کئے ہیں،عالمی برادری کو ان امور کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔

واپس کریں