دہشت گردی کا پولیٹیکل ٹول کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہئے،بحر ہند کو مداخلت سے بچانا ہوگا، ہندوستانی وزیر اعظم مودی کی جنرل اسمبلی میں تقریر
No image نیو یارک( کشیر رپورٹ) ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کا طویل حصہ اپنی حکومت کے اقدامات پر صرف کیا اور اپنے سات سالہ حکمرانی کے دور کو بہترین قرار دیا۔ تقریر کے آخری حصے میں ہندوستانی وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے لئے منفی سوچ اور انتہا پسندی کا خطرہ بڑہتا جا رہاہے،اس کے لئے دنیا کو سائینس کی بنیاد اور ترقی پسند سوچ کو اپنانا ہو گا۔
ہندوستانی وزیر اعظم نے کہا کہ جو ملک منفی سوچ کے ساتھ دہشت گردی کا پولیٹیکل ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دہشت گردی ان کے لئے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے۔ یہ واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی پھیلانے اور دہشت گرد حملوں کے لئے نہ استعمال ہو،ہمیں اس بات کے لئے بھی چوکنا رہنا ہو گا کہ وہاں کی نازک صورتحال کو کوئی ملک اپنے مفاد کے لئے ایک ٹول کی طرح استعمال کرنے کی کوشش نہ کرے،اس وقت افغانستان کے عوام، خواتین اور بچوں کو ،وہاں کی اقلیتوں کو مدد کی ضرورت ہے،اس کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہی ہو گا۔
مودی نے کہا کہ ہمارے سمندر بھی ہماری مشترکہ وراثت ہیں،اس لئے ہمیں یہ دھیان رکھنا ہو گا کہ ہم سمندری وراثت کو استعمال کریں،برا سلوک نہ کریں،ہمارے سمندر اقتصادی ترقی کی لائف لائین بھی ہے،اسے ہمیں مداخلت اور توسیع پسندی سے بچا کر رکھنا ہی ہوگا۔رولڈ بیس ورلڈ آرڈر کے استحکام کے لئے سب کو ایک آواز اٹھانی ہو گی،ہمیں میری ٹائم سیکورٹی میں آگے بڑہنا ہے۔
مودی نے کہا کہ آج اقوام متحدہ پر کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں،یہ ہم نے کلائمیٹ کرائسز میں دیکھا ہے،کووڈ کے دوران دیکھا ہے،دنیا کے کئی حصوںمیں چل رہی '' پراکسی وار''،دہشت گردی ، اور ابھی افغانستان نے ان سوالوں کا اور بھی گہرا کر دیا ہے،ہمیں گلوبل آرڈر، گلوبل لاز اور گلوبل ویلیوز کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔
واپس کریں