'' ہجرت کا کرب مسلسل '' ، جوش ملیح آبادی کی پوتی تبسم ملیح آبادی کا نوحہ
No image اسلام آباد( کشیر رپورٹ) اردو کے شہرہ آفاق عظیم شاعر و ادیب جوش ملیح آبادی کی پوتی تبسم ملیح آبادی نے کہا ہے کہ ''1947 میں تقسیم ہند و پاک کے وقت پاکستان کی جانب ہجرت کرنے والے لوگوں میں ایسے بہت سے خاندان بھی تھے جو ہر لحاظ سے معزز اور لائق صد احترام ہوا کرتے تھے، گھر بار کے لحاظ سے بھی بہت آسودہ تھے، روزگار اور کاروبار بھی خوب تھا اور اکثر و بیشتر صاحب جائداد بھی تھے۔ مگر تقسیم کے بعد ایسے بہت سے خاندان خانماں بربادی کا شکار ہوگئے،جن میں ایک خاندان ہمارا بھی ہے۔
تبسم ملیح آبادی نے سوشل میڈیا پہ اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ''اور جب انہوں نے یہاں آکر لوگوں کو اپنی گزشتہ بود و باش اور فراغ حالی کا تذکرہ کسی قدر فخر یا کبھی کرب و اذیت کے انداز میں کیا ، تو یہاں کے لوگ سمجھ نہیں پائے ، سمجھتے بھی کیسے ؟.'جس تن لاگے اس تن جانے' کے مصداق جب انہوں نے ہجرت کا رنج ہی نہیں جھیلا تھا ، جنہوں نے اپنے پیار بھرے گھر بار نہیں چھوڑے تھے ، اپنی یادیں باتیں اپنے چھوڑے ہوئے گھروں کے در و دیوار میں دفن کرکے نہیں آئے تھے، انہیں کیسے معلوم ہوتا کہ بسی بسائی بستی اور اپنے پیاروں کو چھوڑ کر آنا کیا ہوتا ہے۔
تبسم ملیح آبادی نے کہا کہ'' اسی تناظر میں ، میں ایک نظم لکھ رہی تھی ، اپنے بزرگوں کی باتوں اور یادوں سے پیوست کچھ باتیں اور یادیں دل کو بوجھل کر رہی تھیں، سوچا اپنی تحریر کے ساتھ یہ شعر پیوست کردوں شاید میرے ان لفظوں میں چھپے کرب کو کوئی سمجھ سکے''۔ ملاحظہ ہو
ریشم و اطلس و کمخواب میں بنے ہوئے ہم
ایسے. الجھے ہیں، سرا بھی نہیں ملتا اپنا
تبسم آفریدی ملیح آبادی
واپس کریں