آزا د کشمیر حکومت کی نااہلی اور بیڈ گوریننس، ترقیاتی کام ٹھپ، پہلی سہ ماہی کے سات ارب خرچ نہ ہونے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی دوسری قسط نہیں ملے گی
No image مظفر آباد( کشیر رپورٹ) آزاد کشمیر کی ' پی ٹی آئی' حکومت کی نااہلی اورخراب منیجمنٹ ،بیڈ گورنینس کی وجہ سے آزاد کشمیر میں تمام ترقیاتی کام رکے ہو ئے ہیں اور اس سے آزاد کشمیر کو اربوں روپے کا نقصان بھی ہو رہا ہے۔تمام ترقیاتی منصوبے رک جانے سے آزاد کشمیر کا خطہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
تفصیلا ت کے مطابق آزاد کشمیر میں ' پی ٹی آئی ' کی حکومت نے سابق حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے از سر نو جائزے کے لئے ایک جائزہ کمیٹی بناتے ہوئے تمام منصوبے روک رکھے ہیں اورنئے ٹینڈرز جاری کرنے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔اس میں جاریہ ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔آزادکشمیر حکومت کو حکومت پاکستان کے پلاننگ کمیشن سے ترقیاتی منصوبوں کے لئے ہر سہ ماہی سات ارب روپے ملتے ہیں۔آزاد کشمیر کی سابق مسلم لیگ (ن) حکومت کے منظور کردہ بجٹ2021-22 کے بعد اگست کے مہینے میں پلاننگ کمیشن کی طرف سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں آزاد کشمیر کو پہلی سہ ماہی کے لئے سات ارب روپے جاری ہوئے لیکن آزاد کشمیر کی نئی ' پی ٹی آئی' حکومت نے جاری منصوبوں سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام روکتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کا از سر نو جائزہ لینے، کئی منصوبے ختم اور کئی اپنے منصوبے شامل کرانے کے لئے ایک جائزہ کمیٹی بنائی ہے اور نئے ٹینڈرز کا اجراء بھی روک رکھا ہے۔اس وجہ سے پلاننگ کمیشن سے ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے پہلی سہ ماہی کے لئے ملنے والی سات ارب روپے کی رقم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ نہیںکی جا سکی ہے۔اس وجہ سے نومبر میں حکومت پاکستان کے پلاننگ کمیشن کی طرف سے ترقیاتی پروگرام کی مد میں دوسری سہ ماہی کے لئے سات ارب روپے نہیں مل سکیں گے کیونکہ پہلی سہ ماہی میں فراہم کئے گئے سات ارب روپے اب تک ترقیاتی منصوبوں پر خرچ نہیں کئے جا سکے ہیں۔
اس طرح آزاد کشمیر حکومت کی ' پی ٹی آئی ' حکومت کی نااہلی اور خراب نظم و نسق کی وجہ سے جہاں ایک طرف جاری منصوبوں سمیت تمام ترقیاتی کام بند پڑے ہیں وہاں آزاد کشمیر کے خطے کو اربوں روپے نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔
واپس کریں