وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پہ چیف سیکرٹری چیئر مینCBRمقرر، آزاد کشمیر کے مالی اختیارات سلب کرنے کی راہ ہموار
No image مظفر آباد( کشیر رپورٹ)آزاد کشمیر حکومت کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے 20اکتوبر کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری ( جنرل) کی جگہ سینٹرل بورڈ آف ریوینیو کا چیئر مین مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر حکومت کے نام چیف سیکرٹری کے ذریعے ایک ڈائریکیٹیو میں یہ حکم جاری کیا کہ چیف سیکرٹری آزادکشمیر کو CBRکا چیئر مین مقرر کیا جائے۔واضح رہے کہ آئینی ،قانونی طور پر وزیر اعظم پاکستان کو ایسا کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ آزاد کشمیر حکومت کو اس طرح کا کوئی حکم جاری کرے۔وزیر اعظم عمران خان کے اس ڈائریکٹیو میں چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کو چیئر مین CBRمقرر کرنے کاکہتے ہوئے یہ الفاظ استعمال کئے گئے کہ ''کیا جاتا ہے''۔

اصل منصوبہ یہ ہے کہ CBR AJKکے پالیسی بورڈ کے اجلاس میں چیف سیکرٹری نے تجویز پیش کی تھی کہ ٹیکس کا نظام FBR(وفاقی بورڈ آف ریوینیو)کے حوالے کیا جائے۔یہی تجویز 13ویں ترمیم سے پہلے وزارت امور کشمیر و کونسل نے پیش کی تھی۔ وزارت امور کشمیر و کونسل نے آئینی ترامیم کے حوالے سے جو ڈرافٹ آزاد کشمیر حکومت کے محکمہ قانون کو بھیجا تھا کہ اول تو ٹیکس کا موضوع آزاد جموں وکشمیر کونسل کے پاس ہی رہنے دیا جائے یا FBRکے حوالے کر دیا جائے۔آزادکشمیر کے آئین کی13ویں ترمیم کی کوششوں کے دوران بھی یہی تجویز تھی کہا انکم ٹیکس سمیت وفاقی نوعیت کے ٹیکس ، انکم ٹیکس، سیلز،گڈز ٹیکس،حکومت پاکستان کے حوالے کئے جائیں،FBRکا دائرہ کار آزاد کشمیر تک بڑہایا جائے۔راجہ فاروق حیدر کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ان وجوہات کی بناء ان تجاویز کو مسترد کر دیا کہ آزاد جموں وکشمیر کا خطہ الگ آئین کے تحت ریگولیٹ ہو رہا ہے، اس لئے اگر حکومت پاکستان کے ایک وفاقی ادارہ(FBR)کا آزاد کشمیر میں عمل دخل شروع کیا جائے تو حکومت پاکستان کے باقی وفاقی اداروں کو آزاد کشمیر کے امور سونپے نہ جانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ایسا کیا جانا پاکستان کے آئین کے آریٹکل 257اور اس کی روح کے بھی منافی اقدام ہو گا،آئین کے آرٹیکل 1میں درج پاکستان میں شامل آئینی علاقوں میں بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کوCBR کا چیئر مین بنانے میںوزیر اعظم عمران خان کے سیکرٹری اعظم خان، وزیر امور کشمیر اور چیف سیکرٹری نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔چیف سیکرٹری کو CBRکا چیئر مین بنانے سے ان امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے کہ آگے چل کر FBRکو آزاد کشمیر میں کام کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

13ویں ترمیم سے پہلے انکم ٹیکس سمیت جملہ ٹیکس آزاد جموں وکشمیر کونسل وصول کرتی تھی اور اس کااسی فیصد آزاد کشمیر کو منتقل ہوتا تھا۔ اس مد میں کونسل سالانہ تقریبا دس ،ساڑھے دس ارب روپے آزاد کشمیر حکومت کو اقساط میں دیتی تھی اور اس میں اکثر ہونے والی تاخیر کی وجہ سے آزاد کشمیر کو اپنے لازمی اخراجات کے لئے سٹیٹ بنک سے سود پر روپیہ ادھار لینا پڑتا تھاجس کی وجہ سے آزاد کشمیر حکومت کو ہر سال قرضوں کے سود کی مد میں 25کروڑ دینا پڑتا تھا۔کونسل آزاد کشمیر کو ٹیکسوں کی مد میں جمع رقم کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہوئے مختلف ترقیاتی سکیموں میں خرچ کرتی تھی،جن ترقیاتی سکیموں میں سے بیشتر کا زمین پر کوئی وجود نہیں ۔کونسل کے ترقیاتی پروگرام میں کرپشن کے حوالے سے وفاقی وزیر امور کشمیر ،متعلقہ انچارج وزیر کی داستانیں زبان زود عام ہیں۔

دلچسپ بات کہ کونسل نے اپنی ترقیاتی سکیموں پر کئے گئے اخراجات کا گزشتہ دس سال سے آڈٹ نہیں کرایا کیونکہ محکمہ حسابات و آڈٹ انہی کے ماتحت تھے اوریہ دونوں محکمے بھی 13ویں ترمیم سے آزاد کشمیر کو تقریبا چالیس سال کے بعد واپس ملے۔

13ویں ترمیم کے فوری بعد کے پہلے سال ٹیکسز کی مد میں محکمہ ان لینڈ ریوینیو نے16ارب روپے ،2019میں 22ارب،2020میں 28ارب اور مالی سال2021-22کے لئے 32ارب کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔آزاد کشمیر حکومت کو محکمے کی واپس منتقلی کے بعد آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹارگٹ سے زیادہ ٹیکسز وصول کر کے داخل خزانہ کیا ہے۔2020میں 22ارب کے ٹارگٹ کے خلاف 23ارب وصولی کی گئی حالانکہ اس عرصہ میں کووڈ اور میر پور زلزلہ کی وجہ سے مجموعی طور پر کاروبار و صنعتی یونٹس بند رہے۔آزاد کشمیر کو ٹیکسوں کے نظام کی منتقلی سے آزاد کشمیر کا بجٹ ایک کھرب سے تجاوز ہوا ہے۔

آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے دور حکومت میں اس وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کے لئے قابل تقسیم محاصل کو2.47سے بڑہا کر 3.64گرانٹ حصے کے طور پرمقرر کیا ۔پاکستان اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) کی سابق حکومتوں کے باعث مالی نظام کی بڑی تبدیلیوں سے آزاد کشمیر حکومت کو اپنے لازمی اخراجات کے لیئے مالی دستیابی میسر آئی۔

آزاد کشمیر میں بعض عناصر جو ان لینڈ ریوینیو میںکرپشن کے الزامات پر مبنی خبریں شائع کروا رہے ہیں،یا سوشل میڈیا میں پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،ان کی سرکاری مالیاتی نظام سے لاعلمی یا جان بوجھ کر آزاد کشمیر کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بعض عناصر ایسا کرتے ہوئے آزاد کشمیر پر وفاقی حکومت کی حاکمیت دوبارہ قائم کئے جانے کی راہ ہموار کرنے کے لئے بے بنیاد الزامات کا سہار ا لیتے ہوئے آلہ کار کے طور پر دانستہ یا نادانستہ استعمال ہو رہے ہیں۔

اس بارے میں کچھ یوں ہیں کہ آزاد کشمیر میں انکم ٹیکس ،ایکسائیز ڈیوٹی،سیلز و دیگر مدات کے ٹیکسز کی جملہ وصولیابی محکمہ حسابات کے توسط سے براہ راست آزاد کشمیر کے خزانہ کے اکائونٹ نمبر 101میں جمع ہوتی ہے ۔لہذا اس اکائونٹ سے رقم کی منتقلی یا اخراجات کی منظوری اسمبلی کے منظور شدہ بجٹ کے مطابق ہوتی ہے۔محکمہ ان لینڈ ریوینیو گزشتہ تین چار سال سے حکومت کی جانب سے ٹیکسز کے لئے ٹارگٹ سے زیادہ وصولیاں کرتے ہوئے براہ راست سرکاری خزانہ میں جمع کراتا ہے۔

سالانہ غیر ترقیاتی میزانیہ اور ترقیاتی میزانیہ دو الگ مدات ہیں۔غیر ترقیاتی میزانیہ کے تحت دستیاب رقومات کے خلاف اخراجات منظور شدہ بجٹ کے مطابق ہوتے ہیںجبکہ ترقیاتی میزانیہ کے تحت مختص بجٹ کے خلاف آزاد کشمیر اسمبلی سے باقاعدہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبہ جات جاریہ و نئے منصوبوں کے اخراجات کئے جاتے ہیں۔

قارئین ، ناظرین کی دلچسپی کے لئے رواں مالی سال2021-22کے غیر ترقیاتی میزانیہ کے تحت مختص بجٹ کی صورتحال درج ذیل ہے۔
تنخواہیں و الائونس۔ 67ارب17کروڑ82لاکھ 24ہزار ۔
پینشن۔ 23ارب ۔
انرجی چارجز( واپڈا کو بجلی استعمال کی ادائیگی)۔6ارب روپے۔
فوڈ سبسڈی ۔2ارب80کروڑ59لاکھ50ہزار۔
مہاجرین گزارہ الائونس۔1ارب1کروڑ 22لاکھ25ہزار۔
ادویات ملازمین کے لئے۔66کروڑ 39لاکھ 64ہزار۔
خریداری پائیدار اشیائ۔20کروڑ(بیس کروڑ کی خریداری پہ24فیصد ٹیکس کٹتا ہے)
ریپئر و مینٹینینس۔38کروڑ 40لاکھ۔
یہا ں یہ بات بھی دلجسپ ہے کہ پاکستان کے کئی اداروں کا بجٹ آزاد کشمیر کے بجٹ سے بڑھ کر ہے۔
اب ہم ترقیاتی بجٹ کا جائزہ لیتے ہیں جو29ارب ہے۔
آزاد کشمیر کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو اکہ جب راجہ فاروق حیدر خان کی سربراہی میں قائم سابق مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے جاتے جاتے18ارب سرپلس چھوڑے، اس میں سے پانچ ارب آزاد جموں وکشمیر بنک کو شیڈولڈ کرنے کے لئے مخصوص کئے گئے۔یوں سابق مسلم لیگی حکومت کے جاتے وقت آزاد کشمیر کے خزانے میں 13ارب روپے موجود تھے۔

آزاد کشمیر کا گزشتہ ترقیاتی بجٹ 23ارب تھا جو اب 28ارب ہے۔سالانہ ترقیاتی پروگرام اسمبلی سے منظور شدہ ہے۔آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کے، ترقیاتی منصوبوں کی مالیت کے حساب سے، چار فورم ہیں۔ایک سو ملین یعنی 10کروڑ تک ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات کی سربراہی میں ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی۔
نمبر دو کابینہ ڈویلپمنٹ کمیٹی،تیسرا فورم سینٹرل ڈویلمنٹ ورکنگ پارٹی پر مشتمل ہوتا ہے۔چوتھا فورم ایکنک جو وزیر اعظم پاکستان یا وزیر خزانہ کی سربراہی میں کام کرتا ہے۔مالی طور پر ہر فورم کی منظوری کی حد (لمٹ) مقررر ہے۔جس میں سب سے زیادہ ایکنک،اس سے کم سنٹرل ڈویلپمنٹ پارٹی ،بالترتیب ۔مسلم لیگ (نٰ کی سابق حکومت نے آزاد کشمیر کی مالی حد،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات کی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی حد پہلے 10کروڑ تھی اسے40کروڑ کیا،کابینہ کمیٹی کی حد میں اضافہ کرتے ہوئے ایک ارب 40کروڑ کر دیا۔

یوں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آزاد کشمیر کے آئین میں ترمیم کئے بغیر ہی آزاد کشمیر حکومت کے مالیاتی اور انتظامی اختیارات کو اپنی ہدایات پر چلاتے ہوئے پامال کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ عمران خان انتظامیہ پاکستان کی طرح آزاد کشمیر کو بھی خراب کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔یہ طرز عمل نہ صرف آزاد کشمیر کے لئے بڑے نقصانات کا موجب بن رہا ہے بلکہ اس سے کشمیر کاز کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
واپس کریں