آزاد کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پروگرام کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس
No image مظفرآباد10نومبر2021(ن کشیر رپورٹ)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ وزیرا عظم نے اپنے ابتدائی کلمات میں اجلاس میں شریک چیف سیکرٹری آزادکشمیر، جنرل آفیسر کمانڈنگ 12ڈویژن مری، بریگیڈ کمانڈر 1اے کے بریگیڈ، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان، سیکرٹریز حکومت، ڈویژنل کمشنر زاور انسپکٹر جنرل پولیس سمیت اعلی آفیسران کا بہترین کارکردگی اور دلچسپی کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلہ میں ریاست کی سلامتی اور بقا میں افواج پاکستان کے روشن کردار کو سراہا۔
اجلاس میں محکمہ داخلہ حکومت آزادکشمیر اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے 20نکاتی ایجنڈا پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلا س کے دوران انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے نارمل میزانیہ پر قیام کی منظوری کے علاوہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کم از کم 500پولیس اہلکاران کی اسامیوں کی تخلیق کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔ انسپکٹر جنرل پولیس اس سلسلہ میں باضابطہ تجویز مجاز فورم پر پیش کریں گے، علاوہ ازیں اجلاس کے دوران یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی اور دیہی ڈیفنس کمیٹیوں کو از سر نو فعال کیا جائے گا،جو باقاعدگی سے اپنی رپورٹس بالا فورم پر پیش کریں گے۔ اجلاس کے اختتامی کلمات میں وزیرا عظم نے تمام شرکا اجلاس اور بالخصوص جنرل آفیسر کمانڈنگ 12ڈویژن مری کا آزادکشمیر کی تعمیر و ترقی اور لائن آف کنٹرول پر موجود سول آبادی کے لیے سرانجام دی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے شکریہ اداکیا۔
وزیرا عظم نے کہا کہ سال 2014کے اوائل میں پشاور کے درد ناک سانحہ کے بعد دہشت گردی کی نہ تھمنے والی لہر پر قابو پانے کے لیے قومی اتفاق رائے سے 20نکات پر مشتمل قومی سلامتی کی خاطر نیشنل ایکشن پلان کا جو ایجنڈا پیش کیا گیا، اس پر عملدرآمد کے لیے قومی سلامتی کے اداروں کی راہنمائی میں آزادکشمیر پولیس اور ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کے علاوہ متعلقہ اداروں نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کی، جس پر وہ لائق تحسین ہیں۔ تمام ادارہ جات کی باہمی اشتراک و تعاون پر مبنی کاوشوںسے ملک میں امن و سلامتی اور ترقی کی بحالی ممکن ہوئی، جو کہ ایک مرحلہ پر بظاہر ناممکن نظر آ رہی تھی۔ وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان کے نظر ثانی شدہ 14نکاتی ایجنڈا پر عملدرآمد کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ قومی سلامتی کے اس اہم مقصد کے حصول کے لیے حتی المقدور سعی کی جائے گی تاکہ دہشت گرد عناصر ریاست اور عوام کو کوئی زک نہ پہنچا سکیں۔
وزیرا عظم نے کہا کہ جہاد کی برکت سے اللہ تعالی نے ہمیں آزادخطہ عنایت کیا جو کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے بیس کیمپ کا درجہ رکھتا ہے۔ آزادی کے اس بیس کیمپ میں حکومت اور ترقی کا نصب العین صرف اور صرف کشمیر کی آزادی کے سوا کچھ نہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لیے ہماری تمام کاوشوں کا مرکز و محور یہی نقطہ ہے کہ ہمارے کشمیری بھائیوں کو جلد از جلد آزادی کی نعمت ملے۔

واپس کریں