'او آئی سی ' کے وفد کا دورہ آزاد کشمیر، مظفر آباد میں صدر آزاد کشمیر سے ملاقات
No image مظفرآباد10 نومبر 2021۔صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے OIC سیکرٹری جنرل کے جموں و کشمیر پر خصوصی نمائندے و اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ایمبیسڈر یوسف محمد صالح الدوبے (Ambassador Yousef Al-Dobeay) کی قیادت میں OIC کے اعلی سطحی وفدنے ایوان صدر مظفرآباد میں ملاقات کی۔ وفد میں OIC کے ایمبیسڈر مسٹر طارگ علی بخیت (Ambassador Tarig Ali Bakheet)، ایمبیسڈر حسن علی حسن (Ambassador Hassan Ali Hassan)، ایمبیسڈر احمد صریر (Ambassador Ahmad Sareer)، ایمبیسڈررضوان سعید شیخ، پاکستان کے OIC میں مستقل مندوب (Ambassador Rizwan Saeed Sheikh, Permanent Representative to OIC)، الحبیب بورانی (Mr. Elhabib Bourane)، مس ماحہ اسیری (Ms. Maha Assiri)، مسٹر محمد الخام لیچی (Mr. Mohamed Elkhamlichi)، مسٹر وقاص لطیف مغل (Mr. Waqas Latif Mughal)، مسٹر فرخ اقبال خان، ڈائریکٹر جنرل (Mr. Farrukh Iqbal Khan, Director General (ED&OIC)، مسٹر محسن سیف اللہ، ڈپٹی ڈائریکٹر او آئی سی (Mr. Mohsin Saifullah, Deputy Director (OIC)، مسٹر شہزاد حسین (Mr. Shahzad Hussain) و دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر OIC کے وفد کے سربراہ ریزیڈنٹ ریپرزنٹیٹو مسٹر نٹ اوسٹبی (Mr. Knut Ostby)نے کہا کہ ہم ایک نئے مینڈیٹ کے ساتھ یہاں آئے ہیں اور ہم اپنے دورے کی ایک رپورٹ مرتب کریں گے جسے ہم ہر جگہ پیش کریں گے خاص کر مارچ 2022 میں اسلام آباد میں ہونے والی اسلامی ممالک سربراہ کانفرنس میں پیش کریں گے جبکہ اسلامی وزرائے خارجہ سمیت پوری دنیا میں ہر فورم پر بھی پیش کریں گے۔
صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ ہمیں اس موقع پر OIC سے بڑی توقعات ہیں کہ وہ وقتا فوقتا مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف آوازبلند کرتے رہیں گے کیونکہ OIC کا ایک وفد پہلے 3 مارچ 2020 کو آزاد کشمیر آیا تھا اور اب پھر دوبارہ وہ آج یہاں آزاد کشمیر تشریف لائے ہیں ان کی آمد سے جہاں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حوصلے بلند ہوں گے وہاں پر کشمیری عوام میں امید کی ایک کرن بھی پیدا ہو گی اور جب اسی طرح کے دیگر ادارے بھی حرکت میں آئیں گے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں پیش رفت ہو سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو غیر آئینی طور پر تبدیل کرنے کے لیے 35 اے اور 370 کے ختم کیا گیا اور اس کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 42 لاکھ ہندوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کیے جس سے بھارت وہاں کی ڈیموگرافی تبدیل کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ اس وقت دو طرح کے لاک ڈان سے نبرد آزما ہو رہے ہیں، ایک 5 اگست 2019 کے غیر آئینی اقدام کے بعد سے بھارتی فوج کی جانب سے نافذ لاک ڈان اور دوسرا کووڈ کی صورت حال کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔ کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں 71 ہزار آبادی کے لیے صرف ایک وینٹی لیٹر جبکہ 39 سو کشمیریوں کے لیے صرف ایک ڈاکٹر کی سہولت میسر ہے لیکن اس کے مقابلے میں صرف8 کشمیریوں پر 1 بھارتی فوجی مسلط ہے۔

واپس کریں