کشمیر کے تحریک کو عالمی مزاحمت میں تبدیل کر دیا جائے۔صدرآزاد کشمیر مسعود خان سے سے سینیٹر سراج الحق اور رشید ترابی کی ملاقات
No image اسلام آباد۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ ریاست میں تمام ترقیاتی اور کاروباری منصوبوں کے ٹھیکے کشمیریوں سے چھین کر بھارتی ہندوں کو الاٹ کر رہی ہے تاکہ کشمیریوں کو روزی روٹی کی فکر میں مبتلا کر کے آزادی کی تحریک سے لا تعلق کر دیا جائے۔ بھارت بین الاقوامی برادری کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال پر تشویش اور مذمت کے باوجود بے خوفی سے یکطرفہ اقدامات کر کے متنازعہ علاقے پر اپنے غیر قانونی قبضہ کو مستحکم کرنے میں مصروف ہے اور ریاست کے اسلامی وتاریخی تشخص کو مٹانے کے لئے وہاں ہزاروں مندروں کی تعمیر، اردو اور کشمیری زبان کی جگہ ہندی اور دیگر زبانوں کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر کشمیریوں کی تہذیب و ثقافت اور انہیں ان کے ماضی سے کاٹنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل کر رہا ہے۔
یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز کشمیر ہائوس اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سابق امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر اور قانون ساز اسمبلی کی مجلس حسابات کے چیئرمین عبد الرشید ترابی بھی موجود تھے۔ صدر آزادکشمیر نے امیر جماعت اسلامی پاکستان سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، بھارتی حکومت کی طرف سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد بھارتی حکومت کے اقدامات اور دنیا کے اس پر ردعمل سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بالفور ڈکلا ریشن کی طرز پر بھارت مقبوضہ کشمیر کو دوسرا اسرائیل بنانے کی کوشش کر رہا ہے صرف فرق اتنا ہے کہ اعلان بالفور پر عملدرآمد میں کئی عشرے لگے تھے لیکن بھارت یہی کام اگلے دو تین سالوں میں مکمل کرنا چاہتا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے جماعت اسلامی پاکستان، جماعت اسلامی آزادکشمیر اور سفارتی محاذ پر تحریک کشمیر برطانیہ کی طرح دوسری تنظیموں کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد جماعت اسلامی اور عالمی سطح پر اس معاون تنظیموں نے جو کردار ادا کیا اسے کشمیر کے دونوں حصوں کے عوام تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے سیاسی بیداری کو ناگزیر عمل قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیریوں کے قتل عام کو روکنے، مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششوں کو ناکام بنانے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کے لئے ضروری ہے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو بین الاقوامی مزاحمتی تحریک میں تبدیل کر دیا جائے اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گے تو اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری کشمیریوں کی آواز کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکے گی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے حق خودارادیت کے مطالبے کی حمایت میں متحد اور یکسو ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی اور ان کے حقوق کی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کشمیری اپنا یہ بنیادی اور قانونی حق حاصل نہیں کر لیتے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدامات خاص طور پر گزشتہ سال کے غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدامات کے بعد بھار ت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے جسے مزید بے نقاب کرنے کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔


واپس کریں