وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے خلاف من گھڑت سنگین الزامات میں مقدمے کا اندراج،کشمیریوں میں غم و غصہ
No image اسلام آباد۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنمائوں کے خلاف من گھڑت الزامات میں مقدمہ درج کرنے سے کشمیریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت کی ایک کٹھ پتلی کی طرف سے درج کرائے گئے اس مقدمے کو پاکستان کے خلاف ایک مذموم سازش قرار دیا جارہا ہے۔عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت کی ایک کٹھ پتلی کی طرف سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے خلاف من گھڑت الزامات میں مقدمہ درج کرنے سے کشمیریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، ایسا طرز عمل پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلاکرنے کی مذموم سازش ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے ایک غیر معروف بدر رشید نامی شخص کی طرف سے محمد نواز شریف اور مسلم لیگ(ن) کے چالیس سے زائد مرکزی رہنمائوں کی طرف سے مجرمانہ سازش کی طرح کے سنگین الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا نام بھی شامل ہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے لندن میں پاکستان کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کے لیے اشتعال انگیز تقاریر کیں، نواز شریف نے تقاریر میں دشمن ملک بھارت کی ڈیکلیئر پالیسی کی تائید کی۔مقدمے میں کہا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر کا مقصد بھارتی افواج کا کشمیر پر قبضے کی کارروائیوں اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانا ہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر کا مقصد اپنے دوست بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بالواسطہ فائدہ پہنچانا ہے، نواز شریف کی تقاریر کا مقصد عالمی برادری میں پاکستان کی اعلی عدالتوں اور مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف بیرون ملک بیٹھ کر سازش کے تحت پاکستان اور ریاستی اداروں کو بدنام کر رہے ہیں، پاکستان کے قوانین کسی سزا یافتہ مجرم کو اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے، پاکستانی قوانین اجازت نہیں دیتے کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی عوام کو افواج اور حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا جائے۔
میڈیا میں اس خبر کے شائع ہوتے ہی ملک کے محب وطن عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عمران خان حکومت اور پاکستان انتظامیہ ملک کو کس سمت لے کر جانا چاہتے ہیں؟ اس طرح کا طرز عمل پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف اس طرح کے من گھڑت الزامات میں مقدمہ درج کرنے سے کشمیریوں میں غم وغصہ پایا جا رہا ہے اور اس رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ عمران خان حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر کو انڈیا میں مدغم کرنے اور کشمیریوں کی خلاف انڈیا کی فوج کشی کی صورتحال میں بے عمل خاموشی اختیار کرتے ہوئے بالواسطہ انڈیا کی مودی حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم عمران خان خود کو کشمیرکا ز کا وکیل قرار دیتے ہوئے انڈیا کے خلاف بر سرپیکار کشمیریوں کو خراب اور نامراد کرنے کا پورا اہتمام کر رہے ہیں۔ کشمیری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بچانے کے لئے ملک میں بدترین سیاسی انتشار پیدا کر رہے ہیں اور ملک میں انڈیا کے خلاف یک جہتی پیدا کرنے کے بجائے بدترین انتشار کو ہوا دیتے ہوئے دشمن کے ہاتھ مضبوط کئے جا رہے ہیں۔
واپس کریں