اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی کے وفد کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سے ملاقات
No image مظفرآباد۔ اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی کی پاکستان میں سربراہ لینا موسی کی قیادت میں ایک اعلی سطحی وفد نے ایوان صدر مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے ملاقات کی اور ان سے آزاد کشمیر میں آبادی پر قابو پانے، نوزائیدہ بچوں اور مائوں کی صحت اور خواتین میں ہر سوتی نالورن کی بیماری سمیت صحت اور آبادی کے دیگر مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات میں آزاد کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی، وزیر برائے بہبود آبادی ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی، سیکرٹری بہبود آبادی راجہ محمد رزاق بھی موجود تھے جبکہ اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی کے وفد میں ڈاکٹر یلماالزار،ڈاکٹر جمیل اور ڈاکٹر عدیلہ خان شامل تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے اقوام متحدہ کے وفد کے دورہ آزاد کشمیر پر شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ریاست کا محکمہ بہبود آبادی اور محکمہ صحت عامہ اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہبود آبادی، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی دائیوں کی تربیت کے ذریعے زچہ و بچہ کی صحت کو یقینی بنانا اور نوزائیدہ بچوں اور ان کی ماوں کی شرح اموات میں کمی لانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں ہم اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی کے تعاون اور فنی معاونت کا خیر مقدم کریں گے۔ انہوںنے کہ کہا کہ ایک ترقی پذیر خطہ ہونے کے ناطے آزاد کشمیر کی حکومت کی یہ ترجیح ہے کہ ریاست کی آبادی کو اس کے وسائل کے مطابق رکھا جائے تاکہ لوگوں کی صحت، تعلیم اور معاشی ترقی کی راہ میں بڑھتی ہوئی آبادی کو رکاوٹ بننے سے روکا جائے اور ترقی و خوشحالی کے ثمرات سے موجودہ آبادی کو کامیابی سے مستفید کیاجائے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور آزاد کشمیر کی آبادی دو عشاریہ ایک فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اگر اس کو قابو میں لانے کے لیے ضروری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہمیں مستقبل قریب میں خوراک کی کمی، غیر مطلوبہ انتقال آبادی اور دیگر معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آزاد کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی نے اقوام متحدہ کے فنڈز برائے آبادی کی طرف سے آبادی کے انتظام و انصرام کے ذریعے استحکام لانے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے یقین دلایا کہ آزاد کشمیر کا محکمہ صحت یو این پاپولیشن فنڈ کے ساتھ مل کر مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے بھرپور کر دار ادا کرے گا۔ آزاد کشمیر کے وزیر برائے بہبود آبادی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہا کہ ان کی وزارت بہبود آبادی کے حوالہ سے عوام میں شعورو آگاہی پیدا کرنے کیلئے سمینار، ورکشاپس اور دیگر کمیونٹی پروگرامات کا اہتمام کرتی ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کی مشاورت و تعاون سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت کی خواہش ہے کہ ریاست میں مڈ وائفری سکول قائم کر کے تربیت یافتہ خواتین کی افرادی قوت تیار کی جائے جو تولیدی صحت اور زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے کمیونٹی میں آگاہی پیدا کریں۔ اپنی گفتگو میں اقدام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی کی پاکستان میں سربراہ لینا موسی نے کہا کہ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر اور حکومت کے مختلف اداروں سمیت تمام شراکت داروں کا فرض ہے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کو توسیع دینے کے لیے ہم چاہتے ہیں اس پروگرام کو زچگی، نوزائیدہ بچوں اور بچے اور ماں کی صحت کے پروگرام کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ حکومت خاندانی منصوبہ بندی کی عالمی معیار کی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے نجی شعبے کے تعاون سے ایک جامع روڈ میپ تیار کرے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی حکومت کی طرف سے زچگی صحت، جنسی مساوات، خواتین کے حقوق اور نوجوانوں کی ترقی کے بارے میں عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے آبادی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔
واپس کریں