صدر آزاد کشمیر مسعود خان سے آسڑیلیا کی قائمقام ہائی کمشنر امینڈا ڈیوس کی ملاقات
No image مظفرآباد ۔ آزاد جموں کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر کے حالات میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور منقسم ریاست کے دو حصوں میں بسنے والے کشمیریوں کی زندگی میں واضح فرق آزادی اور غلامی میں خط امتیاز بھی کھینچ رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو تمام بنیادی حقوق اور شہری آزادیاں حاصل ہیں، شہروں اور قصبوں کی گلیوں اور سڑکوں پر فوج گشت کرتی ہے اور نہ ہی شہریوں کو گرفتار کر کے غائب کیا جاتا اور نہ آزاد کشمیر کے شہریوں کو جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں تشدد کے ذریعے ہلاک کیا جاتا ہے جبکہ ریاست کے مقبوضہ حصہ میں یہ سب کچھ ہوتا ہے جس سے پوری دنیاآگاہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدر مظفرآباد میں آسٹریلیا کی پاکستان میں قائمقام ہائی کمشنر امینڈا ڈیوس کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے غیر انسانی اور وحشیانہ مظالم، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ آباد آزاد کشمیر کے شہریوں پر بھارتی قابض فوج کی بلا جواز فائرنگ سے آزاد کشمیر کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور یہ صورت حال آزاد خطہ کی حکومت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے آسٹریلین سفارت کاروں کو بتایا کہ بھارتی فوج نے اس سال کے آغاز سے اب تک سیز فائر لائن کی چوبیس سو مرتبہ خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی شہری آبادی کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا جس سے شہریوں کی املاک کو بھاری نقصان پہنچنے کے علاوہ درجنوں شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی فائرنگ سے جاںبحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جنہیں نشانہ بنانا غیر اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج ان مہاجرین کی دیکھ بھال ہے جو بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آ کر آزاد کشمیر میں آکر آباد ہو گئے ہیں اور جنہیں آزاد کشمیر کی حکومت پاکستان کی حکومت کے تعاون سے رہائش، خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت اور اسکی ترجیحات کے بارے میں وفد کو آگاہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کو آگاہ کرنے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے علاوہ آزاد علاقے کی تعمیر و ترقی، شہریوں کو صحت و تعلیم اور رسل و رسائل کی سہولتیں فراہم کرنا اور ریاست کے نظم و نسق میں گڈ گورننس کو بہتر بناتے ہوئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا حکومت کی تین بڑی ترجیحات ہیں۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ آزاد کشمیر شرح تعلیم کے اعتبار سے پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں سے آگے ہے۔ پچاسی فیصد شرح تعلیم اور خواتین کو مردوں کے برابر تعلیمی اور معاشی حقوق کے باعث آزاد ریاست کو خوشحال اور ترقی یافتہ بنانے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ ہمارے اعلی تعلیم کے اداروں اور پیشہ ورانہ تعلیم کے اداروں میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیاد ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست میں جنسی تفاوت کا کوئی وجود نہیں اور خواتین کو آگے بڑھنے کے لیے یکساں مواقع حاصل ہیں۔ سی پیک کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہ کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اس منصوبے کی مرکزی شریان گلگت بلتستان سے گزرے گی جبکہ اس منصوبے کے تحت آزاد کشمیر میں توانائی کے متعدد منصوبوں، اسپیشل اکنامک زون کے قیام اور مانسہرہ، میرپور، مظفرآباد، منگلا ایکسپریس وے کے ذریعے آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں کو سی پیک روٹ سے ملانے سے یہاں کے عوام کی زندگی میں ایک بڑی ا ور نمایاں تبدیلی آئے گی۔
واپس کریں