مقبوضہ جموں کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کی کاروائی،لوگوں میں تشویش
No image سرینگر۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں پراپرٹی ٹیکس لگانے کی کاروائی شروع کی ہے جس کے تحت میونسپل کمیٹیوں اور کارپریشن کو ٹیکس وصولی کے اختیارات دیئے جا رہے ہیں۔کسی بھی قسم کی عمارات اور خالی جگہوں پر بھی پندرہ فیصد تک ٹیکس عائید کیا جائے گا۔بھارتی حکومت کی اس کاروائی سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔بھارت کے مرکزی سکریٹری داخلہ اجے کمار بھلا کی جانب سے جاری کئے گئے ہدایات کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی سابقہ قانون نافذ کردہ ان دونوں قوانین میں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کے بارے میں کوئی واضح دفعات موجود نہیں ہیں۔ تاہم ، سال 2011 میں ، قانون ساز اسمبلی نے ان بلوں کو قانون ساز اسمبلی کے منظور ہونے کے بعد مشترکہ سلیکٹ کمیٹی میں پراپرٹی ٹیکس لگانے کی راہ ہموار کرنے کے لئے جے اینڈ کے میونسپل ایکٹ اور جے اینڈ کے میونسپل کارپوریشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کے بلوں کا حوالہ دیا تھا۔ لیکن دونوں بل مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کی طرف سے فیصلے میں غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے ختم ہوگئے۔ جموں و کشمیر میونسپل ایکٹ 2000 میں ، جس کے تحت میونسپل کونسلیں اور کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ، وزارت داخلہ نے سیکشن 72 سے 80 کو تبدیل کیا اور اب دفعہ states 72 میں کہا گیا ہے: "جب تک اس ایکٹ یا کسی دوسرے قانون کے تحت اس وقت تک رعایت نہیں کی جاتی ہے ، اس وقت تک پراپرٹی ٹیکس تمام اراضی اور عمارتوں یا خالی جگہوں پر یا میونسپل ایریا میں واقع دونوں پر عائد ہوگا۔ پراپرٹی ٹیکس زمین اور عمارت یا خالی زمین کی قابل ٹیکس سالانہ قیمت کے 15 فیصد سے زیادہ نہیں یا اس طرح کی فیصد پر عائد کیا جائے گا جیسے حکومت وقتا فوقتا نوٹیفکیشن کے ذریعہ واضح کرتی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق عوامی حلقوں نے کی جانب سے پروپرٹی ٹیکس اداکرنے پر حیرانگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیرکومرکزی زیرانتظام علاقہ قراردینے کے بعددعوے کئے گئے تھے کہ لوگوں کوہرطرح کی راحت پہنچائی جائیگی او راب نئے نئے ٹیکس اور قوانین لاگوکرکے لوگوں کی زندگیوں کو مزید اجیران بنایاجارہاہے ۔
واپس کریں