فوج حکومت کے ہر ایجنڈے میں ساتھ کھڑی ہے، اپوزیشن کے کہنے پر لوگ نہیں نکلیں گے۔ عمران خان
No image اسلام آباد۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت بھارت کا ایجنڈا لے کر چلنے والے لوگ یہ ہیں، آئی ایس آئی کو ان کی چوری کا پتہ ہوتا ہے اس لیے ہر آرمی چیف سے ان کو مسئلہ ہے کیونکہ یہ اس کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے۔اپوزیشن کے کہنے پہ لوگ نہیں نکلیں گے۔فوج حکومت کے ہرایجنڈے میں ساتھ کھڑی ہے۔اسلام آباد میں آل پاکستان انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے انتخابات سے پہلے مدینے کی ریاست کا ذکر اس لیے نہیں کرتا تھا کیونکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ میں جیت کے لئے یہ بات کررہا ہوں لیکن حکومت میں آنے کے بعد بار بار اس کا ذکر کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ وکلا کے اوپر بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد قانون پر قائم تھی اور کوئی قانون سے اوپر نہیں تھا اور یہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ناانصافی اور ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔
عمران خان نے کہا کہ جے آئی ٹی کی پورے دو سال تحقیق کے بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے اور اگلا کہتا ہے مجھے کیوں نکالا اور پاکستان کے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانتا کہتا کہ مجھے کیوں نکالا اور اس فیصلے کو نہیں مانتے اور اس کا خاندان بھی نہیں مانتا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے الگ قانون ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھیں کہ 30 سال پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اگر یہ کلاس سمجھتی ہے کہ سڑکوں میں نکل کر عمران خان کو بلیک میل کریں گے تو یہ سارے مل کر دو سال بھی جلسے کریں گے تو ہمارا ایک جلسہ ان سے زیادہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تین دفعہ کا وزیراعظم اپنی جائیداد سے متعلق ایک مصدقہ دستاویز نہیں دکھا سکا کہ یہ اربوں روپے باہر کیسے گئے، اگر میں ایک کرکٹر ہوکر 40 سال پہلے کا معاہدہ عدالت کو دکھا سکتا ہوں لیکن وہ ایک دستاویز نہیں دکھا سکا۔انہوں نے کہا کہ ان کے لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ ایک غریب ملک سے پیسہ باہر لے کر گیا، میں نے سوچا کہ کوئی اتنا بڑا ڈفر ہوگا اور وہ سمجھے گا کہ واقعی وہ ایمان دار ہے لیکن پھر چند دن پہلے میں نے دیکھا کہ ان کا ایک سینیئر عہدیدار صبح کے 3 بجے ایک خاتون کے گھر تنظیم سازی کرنے چلاگیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حیران ہوا کہ خاتون کے بھائیوں نے اس کو کیوں مارا تو پھر میں کہا کہ ان کی پارٹی میں واقعی ایسے لوگ ہوں گے جو سمجھتے ہیں کہ ایمان داری سے پیسہ باہر لے کر گیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ کسی مقصد اور نظریے، طلم کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلتے ہیں، لوگ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلتے، خود لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور کارکنوں سے کہہ رہا ہے کہ باہر نکلیں لیکن ان کو قیمے کے نان بھی کھلائیں تب بھی نہیں نکلیں گے، مجھے معلوم ہے کہ وہ پیسہ بھی چلائیں گے لیکن میں ان کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ پیسے لو، قیمے کے نان بھی کھائو اور گھر بیٹھو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بڑے مشکلوں سے نکالا، شروع میں ڈیفالٹ سے بچے، کورونا سے نکلا، عالمی ادارہ صحت کہتا ہے کہ پاکستان دنیا میں ان چار ممالک میں شامل ہے جو کورونا سے نکلا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سے نکلے تو ڈاکوئوں کے اتحاد نے ہمیں ایف اے ٹی ایف کے قانون میں پھنسانے کی کوشش کی، انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف میں پھنس جاتے ہیں تو دیوالیہ ہوجائیں گے اور معیشت تباہ ہوجائے گی۔اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این آر او لینے کے لیے ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی، اور منافقت ہے کہ کوئی این آر او نہیں مانگا حالانکہ انہوں نے 38 میں سے 34 شقوں کو تبدیل کرنے پر حمایت کی بات کی۔انہوں نے کہا کہ ادھر سے نکلے تو اب یہ گھبرائے ہیں کیونکہ اب پاکستان اوپر جارہا ہے، ساری دنیا میں مشکل حالات ہیں لیکن پاکستان میں پچھلے مہینے سیمنٹ کی فروخت پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے مہینے موٹرسائیکلوں کی فروخت بھی ریکارڈ ہوئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک آگے نکل رہا ہے اور اہم بحران سے نکل رہے ہیں، اس لیے انہیں حکومت تبدیل کرنے کی جلدی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی فوج پر جو حملے کیے اور زبان استعمال کی ہے، اس پر ایک بات کہوں گا کہ اگر اس وقت کوئی بھارت کا ایجنڈا لے کر پھرتا ہے تو وہ یہ ہیں، پاکستانی فوج کے لیے جو زبان استعمال کررہے ہیں یہ وہی ایجنڈا ہے جو ایف اے ٹی ایف کا ہے اور پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے لیی بھارت پوری کوشش کررہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ مجھے پاکستانی فوج سے کوئی مسئلہ کیوں نہیں ہے، کون سا ایسا کام ہے جس میں فوج نے ہمارے منشور پر عمل نہیں کیا۔یہ وہی ایجنڈا ہے کہ پاکستانی فوج کمزور ہوتی ہے تو پھر خود دیکھیں کہ مسلم دنیا میں کیا ہورہا ہے، لیبیا، شام، عراق اور افغانستان میں کیا ہوا، صومالیہ اور یمن میں کیا ہو رہا ہے، پوری مسلمان دنیا میں آگ لگی ہوئی ہے۔عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کی جو جنگ چلی اس کے باوجود آج ہم ان کی قربانیوں کی وجہ سے محفوظ ہیں اور یہ پاکستانی فوج کے اوپر جو انگلیاں اٹھارہے ہیں ان سے سوال ہے کہ مجھے کوئی مسئلہ کیوں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج حکومت کے ایجنڈے پر ہر جگہ کھڑی ہے، کون سا ایسا منشور ہے جس میں ہماری فوج نے مدد نہیں کی بلکہ جہاں فوج نہیں کرتی جیسے کورونا میں ہماری مدد کی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ فوج نے کراچی میں مدد کی اور نالوں میں کام کی وجہ سے کراچی بچ گیا۔
اگر آج عمران خان پیسہ بنانا شروع کردے اور اگر میں یہاں سے پیسہ چوری کرکے باہر لے جائوں تو سب سے پہلے ہماری آئی ایس آئی کو پتہ چلے گا کیونکہ آئی ایس آئی دنیا کی ٹاپ ایجنسی ہے اور لوگ اس کو مانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کو اس لیے مسئلہ ہے کہ باقی اداروں کو کنٹرول کرکے بیٹھ جاتے ہیں، سپریم کورٹ میں جسٹس کھوسہ نے کہا کہ تمام ادارے مفلوج کردیے گئے ہیں اور کوئی ادارہ آزادانہ کام نہیں کررہا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کو ان کی ساری چوری کا پتہ ہے اور ادھر لڑائی ہوتی ہے، اس لیے نواز شریف کی ہر آرمی چیف سے لڑائی ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اس کو پنجاب پولیس بنانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیونکہ فوج کو پتہ ہے اور جب پتہ چل جاتا ہے تو ان کو بتاتے ہیں اس لیے ڈر ہے، نواز شریف نے کہا کہ آئی ایس آئی کے جنرل ظہیرالاسلام نے استعفے کا کہا تو کیوں کہا اور تم نے چپ کے کیوں سنا کیونکہ ظہیرالاسلام کو پتہ تھا کہ تم نے کتنا پیسہ چوری کیا ہوا ہے۔اپوزیشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مسئلہ کوئی جمہوریت نہیں ہے، جمہوری تو میں ہوں، سب سے زیادہ ووٹ لے کر آیا ہوں، پاکستان کی تاریخ میں 5 حلقوں سے جیت کر آیا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ 2013 اور 2018 کے انتخابات کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، 2018 میں 90 پٹیشنز تھیں جن میں سے آدھی تحریک انصاف کی تھیں، پٹیشن بھی 50 فیصد کم اور تحریک انصاف کی زیادہ ہیں تو اگر دھاندلی ہوتی تو ہمیں اب تک اتحاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عمران خان نے کہا کہ انہوں نے عدلیہ، فوج اور سب کو برا بھلا کہنے کا ایک مقصد ہے کہ کسی طرح ان کو این آر او ملے گا، جس دن ان کو این آر او مل گیا اس دن تباہی ہوگی اور پاکستان نیچے چلا جائے گا، قانون کی بالادستی ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ جتنے مرضی جلسے کرنا ہے کریں لیکن جہاں قانون توڑا آپ سیدھے جیل میں جائیں گے اور اب وی آئی پی جیل نہیں بلکہ جہاں غریب مجرم ہوتا ہے وہاں جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ آل پاکستان انصاف لائرز فورم کے سارے وکیلوں کو صحت کارڈ دلواوں گا کیونکہ زیادہ تر وکیل مشکل میں ہوتے ہیں، نیا پاکستان ہاوسنگ کے تحت بھی وکیلوں کی مدد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ معاہدوں پر جب دستخط ہوتے ہیں تو وکیل موجود ہوتے ہیں اور یہ ساری دنیا میں ہوتا ہے، اس سے وکیلوں کے لیے آمدنی بھی ہوتی ہے تو یہ تینوں چیزیں کریں گے۔

واپس کریں