آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان روس کی کوشش سے جنگ بندی
No image باکو۔ آذر بائیجان اور آرمینیا جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی 10 اکتوبر کو 12 بجے سے نافذ العمل ہو نے کا اعلان کیا گیا ہے۔جنگ بندی کا یہ فیصلہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی دعوت پر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اجلاس میں کیا گیا۔فیصلے کے مطابق دونوں ملک جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔ترکی نے جنگ بندی کی حمایت کی ہے اور کہا کہ جنگ بندی تنازعہ کا مستقل حل کا متبادل نہیں سکتی۔ایران نے جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورنوکاروباخ کے متنازعہ علاقے پہ جنگ شروع ہوئی ۔یہ علاقہ آذر بائیجان کا حصہ ہے لیکن اس پر آرمینیا کا قبضہ ہے۔
دوسری طرف جنگ بندی کے فیصلے کے باوجود آذربائیجان اور آرمینیا نے ایک دوسرے پر سیزفائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا ہے۔آرمینیا کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ انسانی بنیادوں پر ہونے والی جنگ بندی کے نفاذ کے صرف پانچ منٹ بعد آذربائیجان نے کاراخان بیلی پر حملہ کیا، نگورنوکاراباخ آرمی حملے کو پسپا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔دوسری جانب آذربائیجان کا کہنا ہے کہ آرمینیا جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے، فرنٹ لائن پر دو سمتوں میں حملے ہوئے ہیں۔اس سے قبل دونوں جانب سے جنگ بندی شروع ہونے سے پہلے بھی شہری علاقوں میں گولے داغنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ وسطی ایشیا کے اس حصے میں دو ہفتوں سے دونوں ممالک کے درمیان شدید لڑائی جاری تھی۔
واپس کریں