بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو حراست سے رہا کردیا
No image سرینگر۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سابق وزیر اعلی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو رہا کر دیا ہے۔ بھارتی نے گزشتہ سال پانچ اگست کے ناجائز اقدامات سے پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند رہنمائوں،کارکنوں کے علاوہ بھارت کے حامی تمام سیاستدانوں کو بھی گرفتار کر لیاتھا ۔رہائی کے بعد نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ نے مقبوضہ کشمیر کی اپنے طرز کی تمام سیاسی جماعتوں کے اجلاس کے بعد '' گپکار ڈیکلریشن'' جاری کیا تھا جس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر کو بھارت میں مدغم کرنے اور اس کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سمیت تمام یکطرفہ اقدامات کو واپس لیا جائے۔
محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے ٹوئٹ میں کہا کہ محبوبہ مفتی کی غیر قانونی حراست بالآخر ختم ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کی بے حد شکر گزار ہوں جنہوں نے مشکل وقت میں میری مدد کی۔گرفتاری کے بعد محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ بھارتی حکومت، مقبوضہ جموں و کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی ہے اور یہاں وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو فلسطین کے ساتھ اسرائیل کر رہا ہے۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی قیادت نے دو قومی نظریے کو مسترد کرتے ہوئے ایک امید لیے 1947 میں بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلط تھے۔

واپس کریں