وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کا آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب
No image مظفرآباد ۔وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہندوستان پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت پھیلانے کی کاروائیوں میں ملوث ہے جس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں،قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کی جانب سے ہندوستان کی دہشت گردانہ ذہنیت کو ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کرنے اور ہندوستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کرنے کے اعلان کا بھرپور خیرمقدم اور ان کے انٹرویو کی بھرپور تائید کرتے ہیں اپنے ایک بیان میں وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ہندوستان نے جھوٹا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی دراصل ہندوستان خود نہ صرف پاکستان بلکہ اپنے دیگر پڑوسی ممالک میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہے مشیر قومی سلامتی نے اس کو بہترین انداز میں طشت ازبام کیا جس پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں یہ ہندوستان کا اصل چہرہ ہے جسے دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے اب تمام تر سفارتی ذرائع بروے کار لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر اسمبلی نے بھی دوطرفہ مذاکرات کے بجاے سہ فریقی مذاکرات پر زور دیا اور گپکار اعلامیہ کو مکمل طورپر رد کیا بحثیت وزیراعظم آزادکشمیر مشیر قومی سلامتی کے انٹرویو کی مکمل تائید وحمایت کرتا ہوں۔
دریں اثنا وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے بدھ کے روز آزاد جموں وکشمیر اسمبلی میں پیش ہونے والے قراردادوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک بار پھر مذاکرات کے نام پر پاکستان کو دھوکہ دینے کی منصوبہ بندی کررہا ہے گپکار اعلامیہ والے دفعہ 370کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا حق خودارادیت سے کوئی تعلق نہیں،دوطرفہ مذاکرات سے مسلہ کبھی حل نہیں ہوگا جامع اورپائیدار حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات ضروری ہیں۔گپکار ڈکلریشن کو آزادکشمیر کی حکومت اور عوام یکسر مستردکرتے ہیں۔ہندوستان ایک مکار اور سازشی ملک ہے۔ ہندوستان دبا کے تحت دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے مذاکرات کاڈھونگ رچارہا ہے۔ حکومت پاکستان کو حکمت عملی اور جامع پالیسی کے تحت ہندوستان کی سازشوں کا جواب دینا ہوگا۔ کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دوطرف کسی بھی طرح کے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔حکومت پاکستان کو ہندوستان کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جارحانہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ پاکستان انسانی حقوق کی تنظیم کا ممبر بن گیا ہے اور یہ اعزازکی بات ہے۔ پاکستان کو ہندوستان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اس فورم کے ذریعے پاکستان ہندوستان کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کو دنیا بھر میں بے نقاب کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطہ کے اندر انتہائی اہم ملک ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم ترکی کے صدر طیب ارددگان اور ملائشیا کے مہاتیر محمد کا کشمیر یوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت پر عالمی براداری کا بہت دبا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان مذاکرات کا ڈرامہ رچا رہا ہے لیکن کشمیری عوام یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر امن کا جزیرہ ہے۔ علما کرام مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد و یکجہتی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پاکستان جمہوریت کی بنا پر معرض وجود میں آیا ہے۔ پاکستان کی بقا اور سلامتی صرف اور صرف جمہوریت میں ہی ہے۔ انہوں نے کہ ہم نے چار سالوں میں رواداری کی سیاست کی ہے اور انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔ انہوں نیکہا کہ سب سے بڑا احتساب الیکشن ہے۔ الیکشن کے ذریعے ہی صحیح احتساب ممکن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قادیانی فتنہ ہے۔ مسلمان کبھی بھی دوسرے مذہب کے ساتھ اختلاف نہیں رکھتا۔ہم اقلیتوں کے تحفظ کی مکمل ضمانت دیتے ہیں مسلمان کسی دوسرے کو تکلیف پہنچانے کے لئے نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزادکشمیر میں خواتین ترقی کی دوڑ میں شانہ بشانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہماری بچی بچیوں کی تعداد سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میں بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور جمہوری طور پر مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کی آزادی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ اللہ تعالی پاکستان کو خوشحال اور قائم دائم رکھے اور کشمیری کا آزادی کا ضامن بنائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن قائم ہو اور اہل ریاست جموں وکشمیر کو آزادی عطا فرمائے،اس وقت آزادکشمیر میں کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں کچھ جگہوں پر جزوی بندش نافذ کررہے ہیں ایس او پیز کی پابندی کی جائے کسی کو اس کی خلاف ورزی نہیں کرنے دینگے بازاروں کے کھلنے اور بندہونے کا ٹائم طے کررہے ہیں ماسواے اشیا خوردونوش کے بازاروں اور دفاتر،ٹرانسپورٹ میں پابندی لازمی کرنی ہے،کورونا وائرس کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں دنیا بھر میں پھر سے سر اٹھا رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہمیں صرف اور صرف احتیاط کرنی ہو گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بائیس کروڑ کا ملک ہے یہ خطے میں انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے انسانی حقوق فورم بڑا فورم ہے ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر معصوم لوگوں جن میں عورتوں،بچوں،سکول وینز اور ایمبولینسز تک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے اسے دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

واپس کریں