برطانیہ میں عالمی پارلیمانی کشمیر کانفرنس
No image بریڈفورڈ۔جموں و کشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے زیر اہتمام بین الاقوامی کشمیر پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد، کانفرنس کی صدارت لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان نے کی جبکہ کانفرنس کے مہمان خصوصی گورنر پنجاب چودھری محمد سرور تھے، کانفرنس کی میزبانی چیئرمین تحریک راجہ نجابت حسین نے کی۔ بین الاقوامی کشمیر پارلیمانی کانفرنس میں برطانوی ممبران پارلیمنٹ جن میں آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراہم، کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے چیئرمین ایم پی پال برسٹو، لیبر فرینڈز آف کشمیر کے چیئرمین ایم پی اینڈریوگوون، شیڈو وزیر بیرسٹر یاسمین قریشی، شیڈو سیکریٹری ایجوکیشن ایم پی کیٹ گرین، سابق شیڈو سیکرٹری ایجوکیشن ایم پی ربیکا لانگ بیلی، یورپین پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر کی شریک چیئرپرسن سابق ایم ای پی انتھیا میکنٹایئر، سابق ایم ای پی رچرڈ کوربٹ، یورپی پارلیمنٹ کے سابق کشمیری نژاد رکن شفاق محمد، شیڈو وزیر ایم پی ٹریسی برابن، شیڈو وزیر دفاع ایم پی خالد محمود، شیڈو ڈپٹی لیڈر ہاؤس آف کامنز ایم پی افضل خان،لارڈ نذیر احمد، کنزرویٹوایم پی جیک برئیرٹن،شیڈووزیر بیرسٹر عمران حسین،ایم پی ریچل ہاپکنز،ممبر قومی اسمبلی پاکستان و ممبر کشمیرکمیٹی محترمہ نورین فاروق ابراہیماور دیگر نے بھی خصوصی خطاب کیا۔
مقررین نے پارلیمانی کانفرنس کے ذریعے بین الاقوامی برادری بالخصوص برٹش و یورپین پارلیمنٹ سمیت دنیا کی بڑی پارلیمان کے ممبران اور فورزم سے اپیل کی کشمیر کی صورتحال پر توجی دی جائے اور بھارت کو کشمیر میں انسانی
حقو ق کی خلاف ورزیو ں کو روکنے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خود ارادیت دیا جائے۔کشمیری اپنے بنیادی حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ بھارت ریاستی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت تمام تر بین الاقوامی معاہدے، قراردادیں اور انسانی حقوق چارٹرڈ کی خلاف ورزیاں اور کشمیر میں بدترین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر کانفرنس سے مہمان خصوصی گورنر پنجاب و سابق ممبر برطانوی پارلیمنٹ چوہدری محمد سرور نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاک بھارت تنازعہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے تین فریق یعنی کشمیری عوام، پاکستان اور بھارت ہیں۔ کشمیری اس تنزاعہ کے سب سے بنیادی فریق ہیں۔مسئلہ کشمیرطاقت کی بجائے تینوں فریقین کو مذاکرات سے حل کرنا ہوگا۔ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دے۔ پاکستان کشمیریوں کی ہر سطح پر اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان نے کہا کہ بھارت کشمیر میں بدترین مظالم ڈھا رہا ہے۔ ریاستی طاقت اور جبر کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کی کو شش کی جا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور بے گناہ کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل اور نام نہادگھیراؤاور سرچ آپریشن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔پاکستان ہر محاذ پر کشمیری کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری بالخصوص پارلیمنٹ کے ممبران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے ان مظالم اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کریں۔انہوں نے عالمی برادری پر یہ بھی زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے کردار ادا کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔اس موقع پر میزبان کانفرنس و تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل راجہ نجابت حسین نے شرکاء کو کانفرنس کو کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی کوششوں، بھارتی ظلم و ستم اور کشمیر رہنماؤں کی گرفتاریوں سمیت جملہ معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ راجہ نجابت حسین نے تحریک حق خود ارادیت کی سفارتی مہم کے تناظر میں ہونے والی سرگرمیوں سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے حصول کے لئے ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باوجودکشمیر کی آزادی کی تحریک مزید مضبوط ہوئی ہے۔ بھارت نے طاقت، جبر اور سفاکیت کا ہر حربہ آزمایا لیکن وہ کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکا۔راجہ نجابت حسین نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی سنگین صورتحال کا ادراک کریں اور مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور جنگی جرائم پر بھارت سے جواب طلبی کریں۔ اس موقع پرممبران برطانوی و یورپین پارلیمنٹ کشمیر پارلیمنٹر ی گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراہم، کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے چیئرمین ایم پی پال برسٹو، لیبر فرینڈز آف کشمیر کے چیئرمین ایم پی اینڈریو گوون، شیڈو وزیر بیرسٹر یاسمین قریشی، شیڈو سیکریٹری ایجوکیشن ایم پی کیٹ گرین، سابق شیڈو سیکرٹری ایجوکیشن ایم پی ربیکا لانگ بیلی، یورپین پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر کی شریک چیئرپرسن سابق ایم ای پی انتھیا میکنٹایئر، سابق ایم ای پی رچرڈ کوربٹ، یورپی پارلیمنٹ کے سابق کشمیری نژاد رکن شفاق محمد، شیڈو وزیر ایم پی ٹریسی برابن، شیڈو وزیر دفاع ایم پی خالد محمود، شیڈو ڈپٹی لیڈر ہاؤس آف کامنز ایم پی افضل خان،لارڈ نذیر احمد، کنزرویٹوایم پی جیک برئیرٹن،شیڈووزیر بیرسٹر عمران حسین،ایم پی ریچل ہاپکنزاور دیگر نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری کہ وہ کشمیر کے مسلئے کو حل کروائے۔کشمیر کی دن بدن بگڑتی صورتحال تشویشناک ہے۔ ہم برطانوی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ مداخلت کر بھارت پر دباؤ بڑھائے کہ وہ کشمیر میں اٹھائے جانے والے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات واپس لے اور کشمیریوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی آزادی ہونی چاہئے۔ ہم کشمیریو ں کے حق خود ارادیت کی ہر سطح پر حمایت کرتے ہیں۔حق خود ارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے جو انہیں ملنا چاہئے۔ممبران پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماوں نے تحریکی سرگرمیوں میں بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی پاکستان ایم این اے نورین فاروق ابراھیم نے کہا کہ بھارت کویہ جان لینا چاہیے کہ بھارتی قابض افواج کے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم، ماورائے عدالت قتل کے واقعات، زیر حراست تشدد اور اموات، جبری گمشدگیوں اور کشمیری قیادت اور نوجوانوں کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال، مکانات کی مسمارگی، اجتماعی سزاؤں اور دیگر غیر قانونی حربے ماضی میں بھی ناکام ہوئے اور مستقبل میں بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ سمیت پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر تحریک خود ارادیت انٹر نیشنل برطانیہ کی چیئرپرسن و لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی ممبر کونسلر یاسمین ڈار، کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف سلیم وانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوتھ فورم برائے کشمیر آزادکشمیرماریہ اقبال ترانہ، حریت کانفرنس کے سینئر رہنما عبدالحمید لون، تحریک حق خود ارادیت یوتھ کے چیئرمین ذیشان عارف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتی قابض افواج کی طرف سے خواتین اور بچوں سمیت 300 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے۔ گزشتہ 72سالوں سے جاری بھارتی مظالم انتہا کو پہنچ چکے، کشمیری 5 اگست 2019 ء سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ہندوستانی فوج نے آزادی کی تحریک دبانے کے لئے ہر ممکن مظالم ڈھائیلیکن بھارتی مقاصد کامیاب نہ ہو سکے۔پیلٹ گن سے بچوں کی بصارت چھینی، سینکڑوں نوجوانوں کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا، بچوں اور خواتین کو بھی بربریت کا نشانہ بنایااور جیلوں میں بند کیا گیا۔ حریت قیادت کو پابند سلاسل کیا گیا لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کے آزادی کے جذبے ختم نہ کیا جا سکا ہے۔بین الاقوامی اداروں کو بھارتی درندگی کا نوٹس لینا چاہیے۔

واپس کریں