پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ میں جلسہ ، نواز شریف اور ن لیگ کے لیے یہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ بی بی سی
No image اسلام آباد۔ نواز شریف نے گوجرانوالہ جلسے سے بے باک خطاب کرتے ہوئے حکومت کی بداعمالیاں ،نااہلی بیان کرتے ہوئے فوجی قیادت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے جس سے پاکستان میں آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی جدوجہد شروع ہوتے نظر آ رہی ہے۔
برطانیہ کے اطلاعاتی ادارے '' بی بی سی'' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں متحدہ اپوزیشن(پی ڈی ایم)کے گوجرانوالہ میں جلسے کے ساتھ حکومت مخالف تحریک کا باضابطہ آغاز ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر زیر بحث ہے۔گذشتہ روز اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے لندن میں موجود پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف نے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر مسلم لیگ(ن)کی حکومت کو رخصت کروانے اور عمران خان کی حکومت کو برسراقتدار لانے کے لیے جوڑ توڑ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے اس بیان پر ردعمل تو سامنے نہیں آیا لیکن حکومتی وزرا پی ڈی ایم کے جلسے کو ناکام قرار دے چکے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گِل نے اس جلسے کو انڈین مفادات کا حصہ بتاتے ہوئے سوال کیا ہے کہ آخر انڈیا اور ڈاکو موومنٹ کیوں ایک پیج پر ہیں؟
اس جلسے میں مسلم لیگ نواز کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام(ف)اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے حصہ لیا جن کا مطالبہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت بند کرے۔علاج کی غرض سے لندن میں موجود نواز شریف پاکستانی حکومت کو مالی بے ضابطگیوں کے الزامات میں مطلوب ہیں۔ انھوں نے بار بار اپنے خلاف احتساب کے عمل کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔اپنی تقریر میں انھوں نے ملک میں مہنگائی، ترقیاتی منصوبوں، سول ملٹری تعلقات، انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور سیاستدانوں کو غدار کہلائے جانے جیسے مختلف موضوعات پر بات کی۔انھوں نے اپنی تقریر میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ اور وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے میڈیا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے خلاف حال ہی میں لگنے والے الزامات کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے بارہا یہ کہا کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی 'عاصم باجوہ کی تنخواہ 35 لاکھ ہے۔'
نواز شریف نے اپنی تقریر میں پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، آپ کو نواز شریف کو غدار کہنا ہے؟ ضرور کہیے، اشتہاری کہنا ہے؟ ضرور کہیے، نواز شریف کے اثاثے جائیداد ضبط کرنا ہے؟ ضرور کریں، جھوٹے مقدمات بنوانے ہیں؟ بنوائیے لیکن نواز شریف مظلوم عوام کی آواز بنتا رہے گا، نواز شریف عوام کو ان کے ووٹ کی عزت دلوا کر رہے گا۔باجوہ صاحب، حساب آپ کو دینا ہوگا، آپ کو! اور جنرل فیض (آئی ایس آئی کے سربراہ)یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے۔ آپ نے نواز شریف کو باغی کہنا ہے؟ ضرور کہیے۔
پاکستان میں سنیچر کی صبح کو ہیش ٹیگز اور کئی نام ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ان ٹرینڈز میں گوجرانوالہ جلسے کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ایک طرف نواز شریف کی تقریر کے ردعمل میں ٹوئٹر پر پاکستانی فوج کے حق میں اور اپوزیشن کے خلاف کئی ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ نواز اور اس کے دفاع میں بھی لوگ سرگرم ہیں۔ مشرف زیدی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اے پی سی کے مقابلے میں یہ انداز مزید سخت ہوگیا ہے۔ وہ اس انداز کی بات کر رہے ہیں جس میں نواز شریف پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ پر اپنی حکومت کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔صحافی نازیہ میمن لکھتی ہیں کہ اس تقریر سے آگ لگ چکی یہ اب بجھ بھی جائے تو دھواں اور اس کا اثر دیر تک رہے گا۔کالم نگار محمد تقی کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی موجودہ آرمی چیف، جو ڈکٹیٹر نہ ہو، پر سرعام ایسے الزامات نہیں لگائے گئے۔صحافی حامد میر کے مطابق نواز شریف صاحب کی تقریر تو اچھی تھی۔ انھوں نے باجوہ صاحب پر بہت سے الزامات لگائے، اگر نواز شریف پر پابندی نہ ہوتی تو ان سے یہ ضرور پوچھتا کہ جب آپ کی پارٹی نے پچھلے سال باجوہ صاحب کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کی تو آپ کو یہ الزامات کیوں یاد نہ آئے؟ سوال تو بنتا ہے لیکن پوچھیں کیسے؟ عینی کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور (ن)لیگ ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔صحافی جنید سلیم نے لکھا کہ نواز شریف کی گوجرانوالہ جلسہ میں تقریر براہ راست تصادم کا آغاز ہے۔ تقریر میں مخاطب افراد اور ادارے اس پر بھی خاموش رہے تو آئندہ ہر ایرا غیرا یہی زبان استعمال کرے گا اور کسی کو روکنا ناممکن ہوگا۔ ہدف اب عمران خان نہیں فوجی قیادت ہے۔کالم نگار اور اینکر عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو صرف سوچا ہی جا سکتا تھا۔ صورت حال بدل نہیں رہی، بدل گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں بیانیہ کمزور نہیں مضبوط ہو سکتا ہے۔غریدہ فاروقی نے لوگوں سے دریافت کیا کہ نواز شریف کی آج گوجرانوالہ کی تقریر، جو میڈیا پر تو نہ دکھائی گئی، لیکن جلسے میں موجود لوگوں نے سنی، ریکارڈ کی، برزبان آگے پھیلائی جائے گی، سوشل میڈیا پر چلائی گئی، کیا اِس تقریر کا بوجھ ن لیگ اب برداشت کر پائے گی؟


واپس کریں