وزیر اعظم عمران خان کا حکومتی '' ٹائیگر فورس '' تقریب میں تقریر ، اپوزیشن بڑا موضوع رہا
No image اسلام آباد۔وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کی '' ٹائیگر فورس'' کی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد اور گزشتہ روز ان کے گوجرانوالہ میں ہونے والے جلسے کی تقاریر کو اپنا خاص موضوع بنایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کل جو سرکس ہوا ہے ،میں اس پر بات کروں گا اور آپ بہت '' انجوائے'' کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اب مختلف قسم کا عمران خان آنے والا ہے، چوروں اور ڈاکوں کو کسی قسم کا پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید سے قبل نعرے بازی کرنے پر ٹائیگر فورس کو ہدایت کی کہ خاموش ہوجائیں اگر خاموش نہ ہوئے تو انجوائے کیسے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس سرکس میں بڑے فنکار تھے مگر آپ کی سوئی ڈیزل پر کیوں اٹک گئی ہے۔اس دوران ٹائیگرفورس کی نعرے بازی کی وجہ سے وزیراعظم نے خطاب کچھ دیر کیلئے روک دیا۔
نواز شریف کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ فوجیوں پر مسلسل حملے ہورہے ہیں اور ہر روز فوجی جان کی قربانیاں دے رہے ہیں، گزشتہ دنوں 20 لوگ شہید ہوئے اور یہ ہمارے لیے اور ملک کیلئے جان کی قربانیاں دے ر ہے ہیں لیکن یہ گیدڑ جو دم دبا کر باہر بھاگا تھا وہاں بیٹھ کر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف زبان استعمال کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف آج فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید کررہا ہے، خود یہ جنرل جیلانی کے گھر پر سریا لگاکر وزیر بنا، یہ ضیا الحق کے جوتے پالش کرتے کرتے وزیراعلی بنا تھا، جنرل درانی سے مہران بینک کے ذریعے کروڑروں روپے لیے تھے، ملک کی بدقسمتی ہے کہ عدالتوں نے اس کی مدد کی۔تقریر کے آخر میں ایک بار پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کوشش کررہے ہیں کہ فوج اور عدلیہ میں انتشار پھیلائیں، نوازشریف جوگیم کھیل رہا ہے، اس کا پتہ ہے، جنرل باجوہ نے مشکل وقت میں حکومت کی مدد کی، بارشوں اور کورونا کے دوران حکومت کی مدد کی، ساری خارجہ پالیسی میں فوج اور جنرل باجوہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس دوران وزیراعظم نے اسکرین پر نواز شریف کی تصاویر دکھا کر دعوی کیا کہ نواز شریف نے لندن جانے کے لیے ڈرامے بازی کی۔ وزیر اعظم نے مریم اور بلاول کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں نے پیش گوئی کی تھی کہ جب چوروں کی چوری پر ہاتھ پڑے گے تو سب اکٹھے ہوں گے، گزشتہ روز دو بچوں نے تقریریں کیں، ان پر بات نہیں کرنا چاہتا، ایک ان میں سے نانی ہوگئی ہے لیکن وہ میرے لیے بچی ہی ہے۔
اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اب اپوزیشن مختلف عمران خان دیکھے گی، اب کسی ڈاکو کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا، کل کی تقریرسن کرنیا عمران خان بن گیا ہے، اب سے ان کو کوئی وی آئی پی جیل نہیں ملے گے بلکہ عام جیل ملے گی، اب مقابلہ کرکے دکھائوں گا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف سن لو، اب سے میری کوشش ہے کہ تمہیں ملک میں واپس لایا جائے اور اب عام جیل میں ڈالا جائے گا۔
عدلیہ اور قومی احتساب بیورو کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ عدلیہ اور نیب کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ لوگ تنگ آگئے ہیں اور انصاف چاہتے ہیں، قوم انتظار کررہی ہے کہ مقدمے کب عدالت میں مکمل ہوں گے، حکومت ہر طرح کی مدد دینے کو تیار ہیں، ان کے کیسز کی روز سماعت کرکے معاملہ ختم کریں۔ نیب نے صحیح کام کیا ہے لیکن نیب آزاد ہے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائے، میرے ماتحت جو ادارے ہیں، ان کو تیار کروں گا، ان چوروں کو اب پکڑیں گے۔
گندم کی کمی اور مہنگائی پر وزیراعظم نے کہا کہ دو سال ملک میں گندم کی کم پیداوار ہوئی جس کی وجہ غلط ٹائم پر بارشیں ہیں، اس وقت بارشیں ہوئیں جب گندم کی کٹائی کا وقت تھا، ہمیں 27 لاکھ ٹن گندم چاہیے تھی، بارش کی وجہ سے خسارہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ جب گندم کم ہوئی قیمتیں اوپر جانا شروع ہوئیں، ہمیں دیر سے پتا چلا جب تک باہر سے گندم درآمد کی تو ملک میں ذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی۔ان کا کہنا تھا کہ تھوڑے سے لوگ چینی بناتے ہیں لیکن وہ طاقتور ہیں، دونوں خاندان شریف اور زرداری خاندان کی ملز ہیں، ان کی من مانی ہوتی تھی لیکن اب پہلی بارجو ہم پلان لے کر آرہے ہیں، اس سے آگے ایسے مہنگی چینی نہیں ملے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مہنگائی کی بہت وجوہات ہیں، ہمارا روپیہ گرا، ہمیں حکومت ملی تو تاریخ کا بڑا 40 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، جب یہ خسارہ ہوتا ہے کہ ڈالر کی کمی ہوتی ہے، روپیہ کی قدر کم ہوجاتی ہے، ایسے میں باہر سے جو چیزیں لیتے ہیں وہ مہنگی ہوجاتی ہیں، ہم دالیں باہر سے لیتے ہیں وہ مہنگی ہوگئیں۔وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کو ہدایت کی کہ کہیں خود جاکر مداخلت نہیں کرنی، موبائل فون کے ذریعے تصویر لے کر پورٹل پر ڈالنی ہے پھر انتظامیہ کا کام ایکشن لینا ہے، دکانوں پر قیمتوں کی فہرست نہ لگی ہو تو اس کی بھی تصویر دینی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو انسان جدوجہد نہیں کرتا وہ لیڈر ہی نہیں بن سکتا اور انہوں نے ایک گھنٹہ حلال کا کام نہیں کیا اور وہ لیکچر دے رہے ہیں جو اپنے باپ کی حرام کی کمائی پر پلے ہوئے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ چوری کا پیسہ بچانے کے لیے ملک کو بیچ سکتے ہیں، ان کا پتا صاف ہورہا ہے، انہوں نے جو ملک کے ساتھ کیا یہ میر جعفرو میر صادق نے کیا تھا، یہ حملہ جنرل باجوہ پر نہیں پاکستانی فوج پر حملہ ہے، یہی بات نریندر مودی کررہا تھا۔


واپس کریں