ہم پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں،مولانا فضل الرحمان کا ' پی ڈی ایم' کراچی جلسے سے ولولہ انگیز خطاب
No image کراچی۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج ' پی ڈی ایم ' کے کراچی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ وہ ملک کے سنیئر ترین اور بزرگ رہنما کی حیثیت سے ملک و عوام کے حق میں بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے دلائل کے ساتھ ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ یہاںمیرے وہ پیرو کار ہیں جنہوں نے کبھی بھی یزید کے اقتدار کو قبول نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کے قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا،تمام شہداء اور اور اس سانحہ کے متاثرین اور ورثاء کو خرا ج عقیدت پیش کرتا ہوں،ہم نے کراچی سے ہی آزادی مارچ کا آغاز کیا تھا ،پورے سندھ میں ہمارا استقبال کیا، پنجاب نے استقبال کیا، میں آپ کا شکریہ ادا کروں اور آپ کا حق ادا کروں۔'ُٰ ُٰ پی ڈی ایم' نے آزاد جمہوری فضائوں کو بحال کرنا ہے،دو سال سے میدان میں ہیں، ہمیں ڈرایا دھمکایا بھی کیا،لالچ ترغیب بھی دی گئی لیکن ہم دھمکیوں سے مرعواب ہوئے نہ ترغیب سے، یہ کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں ہے اور ہم اس کے ہاتھ بیعت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔گوجرانوالہ میں تاریخی جلسہ ہوا،میاں نواز شریف صاحب کا خطاب الیکٹرانک میڈیا پر نہیں دیکھایا گیا، لیکن ان کے کچھ حصوں پر ہمارے کچھ بڑوں کو بہت اعتراض تھا، موقع ملا کٹھ پتلی کو کہ بوٹ پالش کرنے کا موقع ملا،جب بھی بات کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی بونگی مار دیتا ہے۔خواجہ آصف کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ رات آٹھ بجے باجودہ کو فون کیا اور اس نے جتوادیا، اسے یہ خیال نہیں آیا کہ وہ الیکشن کی دھاندلی کی تصدیق کر رہا ہے۔باجوہ صاحب کا احترام ہے، و ہ اپنے نادان دوست کا خیال کریں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی بقاء کا دارومدار اقتصادی اور معاشی قوت پر ہوتا ہے، مسلم لیگ آخری بجٹ پیش کر رہا تھا تو آنے والے سال کے لئے معاشی ترقی کا ہدف ساڑھے پانچ فیصد لگایا تھا، اگلے سال ساڑھے چھ فیصدتھا، چوری کے ووٹ سے آنے والوں نے ساڑھے پانچ سے ایک اشاریہ آٹھ پر لے آئے اور پھر صفر اشاریہ تین پر لے آئے، معیشت ڈوبنے سے ریاست اپنا اوجود کھو دیتی ہے۔
مولانا فض الرحمان نے کہا کہ ہم پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں،آئین جمہوریت کی جنگ لڑ رہے ہیں،ہمیں کہا جاتا ہے کہ حکومت کو قبول کر لیں یہ ممکن نہیں کہ اسے قبول کر لیں،عزت نفس سے جینا چاہتے ہیں،ہم نے عزت نفس قربان کر کے جینا نہیں سیکھا،ہم نے انگریزوں کے خلاف ہر جانوں کی قربانیاں د ے کر انگریزوں کے خلاف آزادی کا پرچم بلند رکھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے چھبیس لاکھ نوجوانوں کو بیروز گار کیا اس حکومت نے، پاکستان بننے سے آج تک کل ملازمین ایک کروڑ نہیں ہوئے اور یہ ایک کروڑ نوکریوں کی بات کرتے ہیں،۔ نوجوان آنکھیں بند کر کے ایسے لوگوں پر اعتماد نہ کریں۔پچاس لاکھ گھر، کراچی میں تجاوزات کے نام پر پچاس لاکھ گھر گرا دیئے ہیں، انہوں نے گھر کیا دینے ہیں، ان کو بیروزگارکرنا آتا ہے گھر گرانا ہی آتا ہے۔غریب کی قوت خرید ختم کر دی ہے،غریب کدھر جائے گا، دنیا میں انقلاب دولت مندوں نے کبھی نیں لایا وطن کے غریب لوگ لایا کرتے ہیں یہ انقلاب آ کر رہے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج ملک کا کیا حشر کرڈالا ہے،کشمیر کو بیچ ڈالا ہے، کیا عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولہ نہیں دیا تھا؟قوم کو نوید سنانا کہ مودی جی آئے گا اور کشمیر کا مسئلہ حل کرائے گا اور مودی جی نے آ کر کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنا دیا۔تم کشمیر کے سوداگر ہو اور جعلی آنسو بہاتے ہو، تم گلگت کو صوبہ بنانا چاہتے ہین،گلگت پاکستانی ہے،پاکستان کا ایک موقف رہا ہے۔ ان کشمیریوں کا کیا بنے گا؟ وہ کشمیری کہتے ہیں کہ جب تم آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو غداری کا مقدمہ لگائوگے ، تو ہندوستان خوش نہیں ہو گا، وزیر اعظم کشمیر پر غداری کا مقدمہ بنا کر مودی کو خوش کر رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے اٹھاریوں ترمیم سے کسی حد تک صوبوں کو اختیارات دیئے، آزاد کشمیر میں تیرھویں ترمیم لا کر ان کواختیار دیا گیا، اب اسلام آباد والے چودھویں ترمیم لا کر ان کے اختیارات واپس لینے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں، اس سے آزاد کشمیر ،صوبوں میں بغاوت ہو جائے گی،سندھ کے جزائر پر قبضہ کی کوشش کی تو کوئی صوبہ اسے قبول نہ کرے گا، یہاں کے لوگوں کا ان جزائر پر حق ہے۔ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، صوبوں کے حقوق میں اضافہ تو ہو سکتا ہے کمی نہیں۔ اس پر کوئی کمپرومائیز نہیں ہو گا۔سندھ کو تقسیم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، سندھ کے عوام نہ چاہیں تو کسی کاباپ بھی تقسیم نہ کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ آ ج ہر شعبہ زندگی کرب میں مبتلا ہے، لیکن بہرا اور جعلی وزیر اعظم ان کی بات نہیں سنتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ناکام خارجہ پالیس نے پا کستان کو تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے، بی جے پی کاواجپائی پاکستان آیا، مینا ر پاکستان کھڑے ہو کر پاکستان کو سلامی دی ،ہم سے تجارت کرنا چاہتا تھا، آج مودی کی حکومت ہے اور اب دیکھ لو کہ پاکستان سے روئیہ کیا ہے۔چین سے دوستی ہمالیہ سے بلند،بحرالکاہل سے گہری ،شہد سے میٹھی، تجارتی دوستی میں محدود ہو گئی، پاکستان کی ترقی کے چین کے منصوبے رکوا دیئے۔افغانی روپیہ پاکستان کے روپے سے زیادہ ہو گیا ہے وہ بھی تجارت نہیں کرتا، ایران انڈیا کے کیمپ میں اور سعودی عرب بھی مخالف ہو گیا ہے، ہے کوئی جسے دوست رکھا ہو؟ ہم ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں اس طریقے سے ریاست محفوظ نیں رہ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق محفوظ نہیں یہاں داخلی جنگ ہے، دہشت گردی ختم ہونے کی نوید سنائی گئی، آج بھی صورتحال جوں کی توں ہے، عام شہری آج بھی پریشان ہے، ان سے اسلحہ سے کر انہیں دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے،ہم پاکستان، آئین جمہوری نظام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی ممتاز شخصیات کی قربانیاں دیں، مچھ پر ہمارے ساتھیوں پر حملے ہوئے، کہاں کہاں قربانیاں نہیں دی گئیں،پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا معنی یہ کہ اس نااہل کے رحم وکرم پر پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتے،عوام کو ووٹ کا حق واپس دلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو خون میں نہیں نہلانا چاہتے، اپنے حق پر سودا نہیں کر سکتے،ہم جانور نہیں، ہم باعزت معزز انسان ہیں اگر کوئی ادارہ اور اس کے لوگ محترم ہیں تو ہم بھی محترم ہیں ،عوام کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہو سکتا سیاسی جماعتوں کے بغیر ملک مکمل نہیں ہے، تمام ادارے اپنے دائرے میں رتے ہوئے فرائض ادا کریں، فوج ہمارے لئے بہت عظیم ہے، آنکھوں کی پلکوں کی طرح ہے ، آنکھ کی حفاظت کرتی ہے آنکھ کے اندرنہیں جاتی،ایک بال بھی اندر چلا جائے تو تکلیف دیتا ہے پھر اس بال کو نکالنا پڑتا ہے، وہ ملک کا دفاع کریں تو ان کو سلوٹ کرتے ہیں، میرے گھر پر آئیں گے تو ہم اپنا حق لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں گڈ گورنینس کا کوئی وجود نہیں، افراتفری کا عالم ہے۔آج دنیا کہتی ہے جو کرپشن مٹانے آئے تھے وہاں کرپشن دو تین گنا بڑھ گئی ہے، اناڑیوں کے حوالے ملک کرو گے تو بیڑا غرق ہو گا۔
واپس کریں