بھارتی حکومت نے'' کشمیر ٹائمز'' کا سرینگر میں دفتر سیل کر دیا
No image سرینگر۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے معروف انگریزی روزنامہ اخبار'' کشمیر ٹائمز'' کے سرینگر دفتر کو ''سیل'' کرتے ہوئے بند کر دیا ہے۔معروف بزرگ صحافی وید بھسین کے '' کشمیر ٹائمز'' کو بھارتی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر بھارتی حکومت کی طرف سے انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اخبار کو اس کاروائی سے پہلے کو نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔گزشتہ روز سرینگر کے پریس اینکلیو میں واقع '' کشمیر ٹائمز'' کے دفتر کے بند کیا گیا۔
وید بھسین کی بیٹی اور اخبار کی ایڈیٹر انورادھا بھسین نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہمارا اخبار کشمیر سے متعلق حکومت کی پالسیوں اور اس کی کارروائیوں پر مسلسل تنقید کرتا رہا ہے۔ ہم عوام کی آواز بننے کی کوشش کرتے رہے ہیں، ہمارے اداریے اور مضامین حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ اور حکومت اپنے خلاف آواز سننے کو ہرگز تیار نہیں ہے وہ خاموش کردینا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں آزاد میڈیا اور صحافیوں کے ساتھ جو رویہ ہے اس سے کون واقف نہیں ہے۔ آئے دن ان کے خلاف کیسز درج کیے جا رہے ہیں۔ ''رپورٹروں کو حراست میں لیا جاتا ہے ان کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوتی ہے اور تھانے میں طلب کر کے انہیں ڈرایا اور دھمکایا بھی جاتا ہے۔ تو اسی کا یہ تسلسل ہے کہ ہمیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انورادھا بھسین نے کہا کہ بھارتی حکومت نے جب کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور کشمیری میڈیا پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی، تو حکومت کے اس فیصلے کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی اور اسی دن سے حکومت نے 'کشمیر ٹائمز کو اشتہار دینا بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے ان کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دفتر سیل کرنے سے پہلے اس طرح کی افواہوں کا بازار گرم تھا لیکن جب بھی سینیئر حکام سے اس بارے میں سوال کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور پھر اچانک کارروائی کردی۔
'' کشمیر ٹائمز'' عرصہ دراز سے انتہا پسند ہندوتنظیموں کی مخالفت کا سامنا کرتا رہا ہے۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے میڈیا اور صحافیوں کے خلاف بھارتی حکومت ،فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے سخت اور ظالمانہ کاروائیاں معمول کا حصہ بن چکی ہیں جس کا اظہار عالمی میڈیا میں بھی کیا گیا ہے۔


واپس کریں