کشمیر کی آزادی کی مزاحمتی تحریک کے خلاف بھارتی حکومت کی پروپیگنڈہ مہم
No image سرینگر۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی بی جے پی حکومت کی طرف سے بائیس اکتوبر کا دن کشمیر پر پاکستان کے حملے کا پروپیگنڈ ہ کرتے ہوئے منایا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے خصوصی طورپر سرینگر کی جھیل ڈل کے ساتھ واقع شیر کشمیر کانفرنس سینٹر میں دو روزہ تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں جس کا افتتاح بھارتی حکومت کے متعین لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 22 اکتوبر کو کیا۔واضح رہے کہ بھارت کی 'بی جے پی 'حکومت جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے داخلے کے حوالے سے خصوصی تقریبات اور پروپیگنڈہ مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور اس مہم کے تحت تقسیم کشمیر کی تمام ذمہ داری پاکستان ہر عائید کی جا رہی ہے۔بھارتی حکومت ایسی پروپیگنڈہ مہم چلاتے ہوئے اس حقیقت سے نظریں چراتی ہے کہ1947میں جون،جولائی اور اگست میں کیا واقعات پیش آئے اور کس طرح ریاست جموں و کشمیرکو انڈیا سے ملانے کی سازشیں تیز کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف کاروائیاں تیز کی گئیں۔انڈیا کی مختلف ہندو ریاستوں اور انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جموں وکشمیر میں موجودگی ، کانگریس کی فرمائش پر مہاراجہ کے وزیر اعظم کی تبدیلی اور مسلم کانفرنس و مسلمانوں کے خلاف سخت کاروائیاں کی گئیں اور جموں میں اگست کے شروع سے ہی مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت گری کی کاروائیاں شروع کی گئیں۔اسی تمام صورتحال کے ردعمل میں کشمیر پر قبائلی حملے کا واقعہ پیش آیا۔ اور اب بھارتی حکومت کشمیریوں کی آزادی کی مزاحمتی تحریک کو کچلنے کے لئے پروپیگنڈے کو تیز کئے ہوئے ہے۔

واپس کریں