آزاد کشمیر کو بجلی فراہم کرنے پر ٹیکس کا تنازعہ ، سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت، وفاقی حکومت ایک ماہ میں معاملہ حل کرے، سپریم کورٹ کی ہدایت
No image اسلام آباد۔ آزاد کشمیر کو بجلی دینے اور ٹیکس وصول کرنے کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آئیسکو اور' ایف بی آر' وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے ہیں، وفاقی حکومت قانون کے مطابق بجلی پر سیلز ٹیکس وصولی کا معاملہ حل کرے۔سماعت کے دوران ' ایف بی آر' کے نمائندے نے کہا کہ اس معاملے میں آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ معاہدہ نہیں بلکہ یاداشت ہے،آزادکشمیر حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ آزاد کشمیر ایک آزاد ریاست ہے اور آزاد کشمیر کو بجلی کی برامدگی پر سیلز ٹیکس زیرو ریٹڈ ہو گا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں منگل کو آزاد کشمیر کو بجلی دینے پر ٹیکس وصولی کیس سے متعلق درخواست پر جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے حکم دیا گیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل حکومت کو معاملے کی اہمیت سے آگاہ کریں۔سماعت میں جسٹس عمرعطا بندیال کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا گیا کہ یہ حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے درمیان معاہدے کامعاملہ ہے، اس معاہدے میں مسئلہ آپ کی وجہ سے ہو رہا ہے، آپ کی یقین دہانی تھی کہ بجلی ٹیکس فری ہوگی۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ بجلی پرٹیکس تب لگے گا جب برآمد ہوگی اور برآمد تب ہوگی جب بیرون ملک بھیجی جائے گی، جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آزاد کشمیر اپنے صارفین سے ٹیکس وصول کر رہا ہے؟اس پر عدالت میں موجود آزاد کشمیر کے وکیل علی سبطین نے کہا کہ آزاد کشمیر اپنے شہریوں سے بجلی پرسیلز ٹیکس وصول کر رہا ہے،2003 سے 2010 تک وفاقی حکومت نے ٹیکس وصول نہیں کیا، اچانک وفاقی حکومت کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری ہو جاتا ہے۔ سماعت کے دوران 'ایف بی آر' کے نمائندے کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ یہ معاہدہ نہیں ہے صرف یاد داشت ہے، اس معاہدے پر صدر مملکت کے دستخط موجود نہیں ہیں۔اس پر آزاد کشمیر حکومت کے وکیل علی سبطین فضلی نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ نہیں تو ڈپٹی اٹارنی جنرل اس کی ذمہ داری لیں کہ یہ جعلی ہے، اگر یہ معاہدہ نہیں ہے تب بھی آزاد کشمیر ایک آزاد ریاست ہے، آزاد کشمیر کو بجلی کی برآمدگی پر سیلز ٹیکس زیرو ریٹڈ ہوگا۔وکیل علی سبطین فضلی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ عدالت کی جا نب سے وزارت توانائی اوروزارت خزانہ کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی گئی، عدالت کی جانب سے ا یک ماہ میں معاملہ حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

واپس کریں