بھارت کے خلاف کشمیریوں کے یوم سیاہ کے موقع پر عالمی ویبنارسے صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا خطاب
No image اسلام آباد( )مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوجی قبضہ کے 73 سال مکمل ہونے اور اس کے غیر قانونی اور غیر انسانی قبضے کے خلاف کشمیریوں کے یوم سیاہ کے موقع پر دو بین الاقوامی ویبی نارز اور دوقومی کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو بے گناہ انسانوں کے قتل، کشمیریوں کی نسل کشی اور انہیں اپنی زمین سے بے دخل اور اپنے گھروں سے بے گھر کرنے سے باز رکھنے کے لیے مداخلت کریں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا سیاسی و سفارتی حل ڈھونڈنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ سکاٹش ہیومن رائٹس فورم اور کشمیر کونسل سویڈن کے زیر اہتمام ویبی نارز سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک غیر ملکیطاقت کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی فوجی قبضہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا اور اس تنازعہ کی وجہ سے دو ایٹمی ملک آمنے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تنازعہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متعدد قرار دادیں منظور کر رکھی ہیں اور یہ مسئلہ اب بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈہ پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے تین فریق ہیں پاکستان اور بھارت کے علاوہ جموں و کشمیر کے عوام اس دیرینہ تنازعہ کے بنیادی اور اہم فریق ہیں اور اس مسئلہ کے حل کے لیے ہونے والی کسی بھی بات چیت میں کشمیری عوام کی شمولیت پہلی اور بنیادی شرط ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار دادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کسی بھی بات چیت سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پانچ اگست 2019 سے پہلے اور بعد کے تمام اقدامات واپس لے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 92 اور 122 کے منافی مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے اور مقبوضہ ریاست کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانے جیسے اقدامات بھی واپس لے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ سلامتی کونسل اس تنازعہ میں ثالث کا کردار ادا کرے اور اقوامی متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سفارتی عمل کو آگے بڑہانے کے لیے کشمیر کے بارے میں اپنا نمائندہ
خصوصی مقرر کریں جو اس سارے عمل کی نگرانی کرے۔ صدر سردار مسعود خان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانیت کے خلاف جرائم پر بھارت کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے سلامتی کونسل کے ایک بین الاقوامی ٹریبونل بنائے۔ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹر نیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان محبت و اخوت کا رشتہ ازلی اور ابدی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس رشتہ میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملانے اور ان کے دل و دماغ جیتنے کے لیے گزشتہ سات دہائیوں میں ہر حربہ استعمال کیا لیکن وہ اس میں ناکام رہا ہے اور اب اس نے پوری کشمیری قوم کا خاتمہ کرنے کا مذموم منصوبہ بنایا جو انشااللہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کی شرکت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد پوری وادی کشمیر محاصرے میں ہے جہاں بھارتی فوج ہر روز نوجوانوں کو چن چن کر قتل کر رہی ہے انہیں گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ گذشتہ ایک سال میں چودہ ہزار نوجوانوں کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بند کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی بربریت سے کشمیر کے بچے محفوظ ہیں اور نہ ہی خواتین۔ اسلئے بین الاقوامی برادری انسانی حقوق کی ان بدترین پامالیوں کا نوٹس لے اور ریاست کی متنازعہ حیثیت کو بحال کرتے ہوئے اس تنازعہ کو پر امن ذرائع سے حل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں اسیر تمام سیاسی رہنماں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر الطاف وانی کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے صدر ریاست نے کہا کہ ان کا ادارہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دنیا کے مختلف فورمز پر اٹھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان آرٹس کونسل کے زیراہتمام ایک اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں نے پورے خطہ کے امن و سلامتی کو دا پر لگا دیا ہے۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے صدر ریاست نے کہا کہ ریاست کے دونوں حصوں کے درمیان در حقیقت کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کشمیر کے مقبوضہ حصے میں بیگناہ لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ انہیں بغیر کسی جرم کے گرفتار کر کے غائب کر دیا جاتا ہے۔ نوجوانوں کی آنکھوں میں گولیاں مار کر انہیں بصارت سے محروم کر دیا جاتا ہے اور خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس عمل کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاتا ہے جبکہ آزاد کشمیر میں لوگ آزاد ہیں، انہیں تمام شہری آزادیاں اور بنیادی حقوق حاصل ہیں اور انہیں سیاسی نظریات اختیار کرنے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

واپس کریں