مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے داخلے کی یاد میں انڈیا کے خلاف کشمیریوں کا یوم سیاہ، '' وائس آف امریکہ'' کی رپورٹ
No image سرینگر ۔ ریاست جموں وکشمیر میں 27 اکتوبر 1947 کوہندوستانی فوج کے داخلے کے خلاف کشمیری ہر سال اس دن یوم سیاہ مناتے ہیں اور اس سال بھی منگل کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کی گئی،اس موقع پر بھارتی فوجی دستے خصوصی طور پر مقبوضہ وادی میں متعین کئے گئے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں دس لاکھ فوج متعین رکھتے ہوئے متنازعہ ریاست کو بھارت میں مدغم کرنے اور اس کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بھارتی اقدام سے مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز سیاست دان بھی اس اقدام میں مخالفت میں سرگرم ہوئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے لئے صورتحال بدستور ہزیمت خیز ہے،ہندوستان سے آزادی کی مزاحمتی تحریک ہندوستانی حکومت کے تمام تر جبر تشدد کے خلاف جاری و ساری ہے۔امریکہ کے سرکاری اطلاعاتی ادارے'' وائس آف امریکہ'' نے کشمیریوں کے بھارت کے خلاف یوم سیاہ کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ
''کشمیر میں بھارت کی فوجی مداخلت کی سال گرہ پر وادی کے کئی حصوں میں یومِ سیاہ جب کہ جموں کے بعض علاقوں میں جشن کیا گیا۔ بھارت کی فوج 27 اکتوبر 1947 کو کشمیر میں داخل ہوئی تھی۔منگل کو کشمیر میں بھارتی فوج کی آمد کی سال گرہ پر وادی کشمیر میں جزوی ہڑتال بھی گئی تاہم گرمائی صدر مقام سرینگر کے پرانے حصے میں کاروبارِ زندگی مکمل طور پر مفلوج رہا۔ماضی کے برعکس استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کی جانب سے ہڑتال کی باضابطہ کال نہیں دی گئی تھی۔ تاہم پیر کی شام وادی کے کئی علاقوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے منگل کو یومِ سیاہ منانے کے لیے پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔خیال رہے کہ بھارت کی فوج کی سکھ رجمنٹ کا پہلا دستہ 27 اکتوبر 1947 کو سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتارا گیا تھا جس کے ساتھ ہی ریاست جموں و کشمیر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ کا آغاز ہوا تھا جو اس کی تقسیم پر ختم ہوئی۔
منگل کو پوری وادی میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔ خاص طور پر سرینگر میں مسلح پولیس اور نیم فوجی دستے جگہ جگہ تعینات رہے۔پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کی آمد کی سال گرہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا گیا اور اس مناسبت سے تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا۔بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)سمیت دیگر ہم خیال جماعتوں نے کشمیر میں بھارتی فوج کی آمد کی سال گرہ پر جشن منایا اور جموں میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔بی جے پی رہنمائوں نے ان تقریبات میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق حتمی ہے۔ کئی برس بعد حکومت کی جانب سے یوم الحاق کی چھٹی بھی دی گئی۔بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے پیر کو یوم الحاق کے دن کو منانے کے لیے جموں اور سرینگر میں 'ترنگا(بھارتی قومی پرچم)ریلیاں نکالی تھیں اور ان کے رہنمائوں نے سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے اس بیان کو بھی رد کیا تھا کہ وہ اس وقت تک کوئی دوسرا پرچم نہیں اٹھائیں گی جب تک جموں و کشمیر کا اپنا ریاستی جھنڈا بحال نہیں ہوتا ہے۔
بھارت کا یہ دعوی رہا ہے کہ کشمیر میں اس کی فوجیں اس کے مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے الحاق کے معاہدے پر دستخط کے بعد بھیجی گئی تھیں جنہوں نے پاکستانی قبائلیوں کے حملے کے بعد بھارت سے مدد طلب کی تھی۔لیکن پاکستان اور کشمیر کی آزادی پسند سیاسی قیادت کا استدلال ہے کہ ایک مطلق العنان ہندو مہاراجہ جو پہلے ہی عوامی حمایت کھو چکا تھا اس کے پاس کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں تھا کہ مسلم اکثریتی ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرتا۔
بھارتی فوج 27 اکتوبر کو اپنے انفنٹری ڈے کے طور پر مناتی ہے۔ پیادہ فوج بھارتی مسلح افواج کا سب سے بڑا جزو ہے جسے کوئین آف دی بیٹلیا(جنگ کی رانی) بھی کہا جاتا ہے۔اس سلسلے میں بھارتی فوج نے منگل کو جموں و کشمیر سمیت پورے بھارت میں خصوصی تقریبات منعقد کیں۔سرینگر کی بادامی باغ چھاونی میں منعقد ہونے والی ایسی ہی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا کہ کشمیر میں صورتِ حال بڑی حد تک بہتر ہوئی ہے جس کا فائدہ یہاں کے نوجوانوں کو اٹھانا چاہیے۔
اس دوران بھارت کی وزارتِ داخلہ نے جموں و کشمیر کے قوانینِ اراضی میں ایک غیر معمولی ردو بدل کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ترمیم شدہ قوانین کے تحت بھارت کا کوئی بھی شہری جموں و کشمیر میں زمین خرید سکتا ہے اور اس کے لیے ریاست کا مستقل شہری ہونا یا نئے اقامتی قانون کے تحت حاصل کردہ دستاویزات پیش کرنا بھی ضروری نہیں۔بھارتی کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں نے وزارتِ داخلہ کے اس اقدام پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ اس کا مقصد ریاست کے عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا ہے۔سابق وزیرِ اعلی اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے ایک ٹوئٹ کر کے کہا کہ جموں و کشمیر کے زمینی ملکیت کے قوانین میں ترمیم ناقابلِ قبول ہے''۔


واپس کریں