جو بائیڈن متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کے 46ویں صدر منتخب،'' امریکی مودی '' ڈونلڈ ٹرمپ شکست سے دوچار
No image واشنگٹن۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کی کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکی مودی کہلانے والے ڈونلڈ ٹرمپ شکست سے دو چار ہوگئے ہیں۔جو بائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر ہوں گے۔اپنی کامیابی کے بعد جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اس عظیم ملک کی قیادت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، آگے ہمیں مشکل چیلنجز درپیش ہیں۔نئے منتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ جنہوں نے مجھے ووٹ دیا یا نہیں دیا، میں سب کا صدر ہوں،میں امریکی عوام کے اعتماد پر پورا اتروں گا۔جوبائیڈن نے کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں کہاکہ امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی صدارتی امیدوار کو 74 ملین ووٹ ملے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے جوبائیڈن کی کامیابی کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب جانتے ہیں بائیڈن کیوں اتنی جلدی فتح کا دعوی کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 214 ہے۔امریکا میں صدارتی انتخاب میں کامیابی کی صورت میں نامزد صدر کی سیکیورٹی موجودہ صدر کے برابر کردی جاتی ہے، جس کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کی جانب سے جوبائیڈن کی سیکورٹی سخت کردی گئی۔
دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور فوجی طاقت کے حامل ملک امریکہ کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی برتری حاصل ہے۔امریکہ نے دنیا کے تمام خطوں میں اپنی فوجی موجودگی اور نگرانی کا عمل رکھا ہوا ہے۔ یوں دنیا کے تمام خطوںکے ملکوں کی پالیسیوں پر امریکی پالیسی گہرے طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ اور انتہا پسندانہ رجحانات اپناتے ہوئے امریکہ کے مقامی اور عالمی جمہوری بالا دستی کے تصور کو نقصان پہنچایا ہے۔
مشرق وسطی میں اسرائیل کی بالادستی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے کئی عرب ممالک سے اسرائیل کو تسلیم بھی کرایا ہے اور افغانستان سے امریکی فوج کی تعداد کم کرنے کے حوالے سے طالبان کے ساتھ مزاکرات کا عمل شروع کیا ۔ایران کے بعد صدر ٹرمپ نے چین کے ساتھ اقتصادی جنگ چھیڑتے ہوئے دنیا میں ایک نئی سرد جنگ کو متعارف کرایا جس میں تجارتی کشمکش کے ساتھ فوجی نقل و حرکت بھی شروع کر دی گئی۔امریکہ نے انڈیا کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات قائم کرتے ہوئے انڈیا کو جدید ہتھیار،جنگی ٹیکنالوجی ،فوجی اشتراک سمیت ہر شعبے میں انڈیا کومضبوط بنانے پر مرحلہ وار عملدرآمد شروع کر رکھا ہے ۔ امریکہ کی طرف سے انڈیا کے ساتھ اسرائیل کی طرز پہ قریبی اور گہرے تعلقات ظاہری طور پر چین کے خلاف ہیں لیکن امریکہ کا یہ طرز عمل پاکستان کے لئے نہایت مہلک نقصانات اور خطرات کا موجب ہے۔اس سے پاکستان کے خلاف انڈیا کو واضح جنگی برتری حاصل ہوتی جا رہی ہے۔امریکہ اعلانیہ طور پرچین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے خلاف متحرک ہے۔موجودہ امریکی انتظامیہ افغانستان کے معاملات سے متعلق پاکستانی انتظامیہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے تاہم کشمیر کے معاملے میں امریکہ کی طرف سے انڈیا کی حمایت پاکستان کے لئے نہایت نقصاندہ ہے۔ امریکہ کا یہ روئیہ پاکستان کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ چین،روس،ترکی اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کوفروغ دیتے ہوئے امریکہ پر اپنے نقصاندہ انحصار کو کم سے کم کر سکے۔ماہرین کے مطابق امریکہ میں صدر کی تبدیلی سے پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی میں کسی ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہیں ہے تاہم اس کے باوجود امریکہ میں صدارتی الیکشن میں جو بائیڈن کی کامیابی کو پاکستان میں اس حوالے سے ضروری تصور کیا جا رہا ہے کہ اس وقت صدر ٹرمپ کی پالیسیاں پاکستان کے مفادات کے خلاف تیزی اختیار کر چکی ہیں۔


واپس کریں