جو بائیڈن کی کامیابی سے امریکہ اور ہندوستان کے درمیان گرمجوش سفارت کاری کا وقت ختم، ہندوستانی تجزئیہ نگار
No image نئی دہلی۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کی کامیابی پر ہندوستان میں پریشانی ظاہر ہو رہی ہے اورعمومی طورپر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان گرمجوشی سے گلے ملنے کی سفارت کاری کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ہندوستان کے ایک سنیئر ایڈووکیٹ اور تجزئیہ نگار اشوک بھان نے امریکہ کے صدارتی الیکشن کے نتائج کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جو بائیڈن کے امریکہ کے صدر بننے سے ہندوستان کیامریکہ کے ساتھ گلے سے سفارت کاری ختم ہوگئی ہے اور اب ہندوستان امریکہ سے یہ توقع ہی کر سکتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے گی۔ہندوستان میں یہ خدشات بھی ظاہر ہو رہے ہیں کہ امریکہ چین کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں تبدیل کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لداخ میں چین کے خلاف امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے سخت روئیہ اپنایا اور پاکستان کو پیسے دینے سے گریز کرتے ہوئے ٹرمپ نے پاکستان پر کاری ضرب بھی لگائی اور افغانستان کے امن مزاکرات میں پاکستان کو شامل کیا۔
ہندوستانی تجزئیہ نگار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جوبائیڈن کے صدر بننے سے ہندوستان کو کئی شعبوں سے متعلق سخت تشویش کا سامنا ہے۔ہندوستان کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ میں کسی کی بھی حکومت بننے کے باوجود امریکہ کے ہندوستان کے ساتھ مختلف شعبوں کے گہرے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹیجک تعلقات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے تعلقات میں تیزی اور سستی کا پیدا ہونا اہم ہے۔اشوک بھان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک صدر کے نامزد امیدوار جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران زور دیا کہ اگر ان کا انتخاب ہوا تو ان کی انتظامیہ کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے نئی دہلی کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور انہوں نے ہندوستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

واپس کریں