پاکستان بار بار شنگھائی تعاون تنظیم میں کشمیر کا دوطرفہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے گروپ بندی کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔وزیر اعظم مودی
No image نئی دہلی۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ورچوئل اجلاس میں اپنی تقریر میں پاکستان اور چین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممبر ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کرنا چاہئے۔ہندوستانی خبر رساں ادارے ' ُریس ٹرسٹ آف انڈیا' کے مطابق وزیر اعظم مودی نے یہ بیان اس صورتحال میں دیا ہے کہ جب لداخ میں چین کے ساتھ جنگی نوعیت کی کشمکش ہے اور پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے اور کشمیر کے علیحدگی پسندوں کی مدد جاری ہے۔مودی نے کہا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم میں کشمیر کے دو طرفہ مسئلے کو بار بار اٹھاتے ہوئے گروپ بندی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر میں طے شدہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کام کرنے کے لئے ہمیشہ پرعزم رہا ہے۔یہ سربراہ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس روس کی صدر ولادیمیر پوٹن کی صدارت میں ہوا ۔اس میں چین کے صدر اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی شریک تھے۔
واضح رہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ قرار دینے کے باوجود ہندوستانی حکومتیں یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے سے فرار کی راہیں اختیار کرتی چلی آ ئی ہیں اور گزشتہ تیس سال سے بالخصوص ہندوستان مقبوضہ جموں وکشمیر میں دس سے سے زائد فوج رکھتے ہوئے ظلم وجبر کے تمام حربے استعمال کرنے اور ہٹ دھرمی کے مظاہرے کے باوجود مسئلہ کشمیر ریاستی طاقت سے اپنے حق میں حل میں ناکام چلا آ رہا ہے۔ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ تیس سال سے بالخصوص اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور چارٹر کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے ہندوستان کے خلاف آزادی کی مزاحمتی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔عالمی سطح پہ مسئلہ کشمیر اٹھائے جانے پر ہندوستان کا اعتراض ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مسئلہ ہے اور دوسری طرف پاکستان کے ساتھ مزاکرات کے بجائے بہانے بازی کے طورپر ایسی پیشگی شرائط رکھ دیتا ہے تا کہ مزاکرات نہ ہو سکیں اور یہ بھی کہ دوطرفہ بات میں دھونس دکھاتے ہوئے کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کی رٹ شروع کر دیتا ہے۔
واپس کریں