آذربائیجان نے نگورنو کاراباخ کے بیشتر علاقے آزاد کرا لئے، روس کی ثالثی میں دونوں متحارب ملکوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا
No image باکو۔ آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے خطے پر جنگ میں آذربائیجان نے نگورنو کاراباخ کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ساتھ ہی روس کی ثالثی میں دنوں متحارب ملکوں نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ک دیئے ہیں۔آرمینیا، روس اور آذربائیجان کے سربراہان حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے متنازعہ علاقے نگورنو کاراباخ میں جنگ بندی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشینین نے ایک بیان میں کہاہے کہ میں نے کاراباخ میں جنگ کے خاتمے کے لیے روس اور آذربائیجان کے صدور کے ساتھ ایک بیان پر دستخط کر دیے ہیں۔روس کے صدر پوٹن نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو معاہدہ طے پایا ہے اس کی بنیاد پر نگورنوکاراباخ کے آس پاس کے بحران کو مکمل اور طویل مدتی طور پر حل کرنے کے لیے ایسے سازگار حالات پیدا ہوسکیں گے، جس سے آرمینیائی اور آذربائیجان کی عوام کا بھی مفاد وابستہ ہے۔روسی صدر پوٹن نے کہا کہ فریقین نے پہلے ہی سے جنگی قیدیوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے تبادلے جیسے کام شروع کر دیے ہیں۔ اس معاہدے میں منگل 10 نومبر کی درمیانی شب سے علاقے میں مکمل طور پر جنگ بندی کی بات کہی گئی ہے۔
آذربائیجان کا کہنا ہے کہ اس نے نگورنو کاراباخ کے آس پاس کے ان بیشتر علاقوں کو حاصل کر لیا ہے جو سن 1991 سے 94 کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ اس جنگ میں تقریبا 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔ گزشتہ چھ ہفتوں سے خطے میں جاری جنگ میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے تین بار جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان ہوا تاہم جنگ روکنے میں کامیابی نہیں ملی۔نگورنو کاراباخ میں تقریبا چھ ہفتے تک شدید لڑائی کے بعد جنگ بندی کے اس معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب آذربائیجان کی فوج اچھی خاصی پیشقدمی کر چکی تھی۔ گزشتہ روز ہی آذربائیجان نے خطے کے متعدد علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا جبکہ اس سے ایک روز قبل ہی اس نے نگورنو کاراباخ کے دوسرے سب سے بڑے شہر پر فتح کا اعلان کر دیا تھا۔
آرمینیائی صدر نے کہا یہ عمل، ''میرے لیے ذاتی طور پر اور ہماری عوام کے لیے ناقابل بیان حد تک تکلیف دہ ہے۔ معاہدے سے ناراض آرمینیائی لوگوں نے یریوان میں حکومتی عمارتوں کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی ہزار لوگ مظاہرے کے لیے سرکاری عمارتوں کے باہر جمع ہوئے تھے اور سینکڑوں نے عمارتوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور ہنگامہ کیا۔آرمینیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ میدان جنگ کی صورت حال اور اس سے متعلق بہترین ماہرین کے عمیق تجزیے اور صلاح و مشورے کی بنیاد پر معاہدے کا فیصلہ کیا گیا، یہ ایک فتح تو نہیں لیکن جب تک آپ اپنے کو شکست خوردہ تسلیم نہ کریں تب تک یہ ہار بھی نہیں ہے۔ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو شکست خوردہ نہیں سمجھیں گے اور یہی ہمارے قومی اتحاد اور ایک نئے عہد کا آغاز ثابت ہوگا۔
واپس کریں