امریکی وزیر خارجہ مائل پومپیو کو رخصت ہوتے ہوئے انسانی حقوق کا بھولا سبق یاد آ گیا
No image وانشنگٹن۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں شکست سے دوچار ہونے والی ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ''امریکہ انسانی حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرے گا۔ انسانی وقار تمام لوگوں کا پیدائشی حق ہے۔ ہم مثال قائم کرتے ہوئے اندرون و بیرون ملک اپنا قائدانہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ایسا کرنے کا ایک طریقہ انسانی حقوق کے تواتر سے ہونے والے عالمگیری جائزے سے مدد لینا بھی ہے''۔
واضح رہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے دنیا کی سیاست میں انسانی حقوق کو اہمیت دینے کی اپنی پالیسی ظاہر کی ہے۔سبکدوش ہونے کے مقام پر کھڑے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو کا یہ بیان اس حوالے سے بھی بے معنی ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں انسانی حقوق کے سنگین مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو چلایا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال انڈیا ہے جہاں اقلیتوں کے ساتھ ریاستی سطح پر ظالمانہ اور جابرانہ اقدامات پر خود امریکی ادارے میں اپنی رپورٹس جاری کر چکے ہیں اور ان میں کشمیر کا سنگین مسئلہ بھی شامل ہے جہاں ایک ملین ہندوستانی فوج نہتے کشمیریوں کے خلاف تین عشروں سے ظلم اور جبر میں مصروف ہے۔یوں صدر ٹرمپ اور مائل پومپیو نے اپنے دور اقتدار میں تو انسانی حقوق کے معاملے کو پست پشت ڈالے رکھا اور اب جبکہ جوبائیڈن انسانی حقوق کو اہمیت دینے کے عزم کے ساتھ امریکہ کے نئے صدر منتخب ہوئے ہیں،پومپیو کا امریکہ کی طرف سے انسانی حقوق کی پاسداری کابھولا سبق یاد آ گیا ہے۔
واپس کریں