قومی سلامتی امور،گلگت بلتستان کے بارے میں سپیکر قومی اسمبلی کا طلب کردہ پارلیمانی رہنمائوں کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی
No image اسلام آباد(کشیر رپورٹ) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پارلیمانی رہنمائوں کابدھ کو طلب کیا جانے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے گزشتہ روز تاخیر سے اس اجلاس کو ملتوی کئے جانے کا بیان جاری کیا گیا۔ اجلاس ملتوی کئے جانے سے متعلق اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پارلیمانی رہنمائوں کامورخہ 11 نومبر کو ہونے والا اجلاس ملتوی.کر دیا گیا ہے،اجلاس میں قومی سلامتی کے امور پر بریفنگ ہونی تھی،قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ نے اجلاس کے ملتوی ہونے کا نوٹس جاری کر دیا ہے''۔
اس سے پہلے سوموار کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں پارلیمانی رہنمائوں کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت 11 نومبر دوپہر 2 بجے کمیٹی روم نمبر 2 میں منعقد ہو گا،اجلاس میں عسکری حکام کی جانب سے قومی سلامتی کے موجودہ امور پر بریفنگ دی جائے گی۔
قبل ازیں قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی طرف سے قومی سلامتی امور کے حوالے سے بدھ کو پارلیمانی رہنمائوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس کے کمیٹی روم نمبر 2 میں طلب کیا گیا تھا۔اس اجلاس کے حوالے سے '' ڈان'' نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ بریفنگ کا بنیادی مقصد اسٹریٹجک محل وقوع کے حامل واقع گلگت بلتستان کو 'عارضی صوبائی حیثیت' دینے کے بارے میں قومی اتفاق رائے پیدا کرناہے اور توقع ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور' انٹر سروسز انٹیلی جنس' کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل فیض حمید بریفنگ دیں گے۔'ڈان' نے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کی سربراہی میں آزاد جموںو کشمیر حکومت کو گلگت بلتستان کو صوبے کی عارضی حیثیت دینے کے اقدام پر کچھ تحفظات ہیں اور بدھ کے اجلاس میں ان کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔بریفنگ کے لیے مدعو کیے جانے والوں کی فہرست میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر مسعود خان، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان، گلگت بلتستان کے گورنر راجہ جلال مقپون اور گلگت بلتستان کے نگراں وزیر اعلی میر افضل کے نام بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم آزا جموں وکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو نقصان پہنچے گا،اس لئے گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کے ساتھ ملاکر ایک حکومت تشکیل دی جائے یا گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر حکومت کی طرز کا نظام حکومت دیا جائے۔آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور حریت کانفرنس کی طرف سے بھی وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی موقف کی حمایت کی گئی ہے۔اس سے قبل سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے 28 ستمبر کو طلب کردہ اجلاس اپوزیشن رہنمائوں کی طرف سے شرکت سے انکار پر منسوخ کیا گیاتھا۔
واپس کریں