تقسیم کشمیر کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کریں گے، وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان
No image پلندری۔وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ کامیابی کیلئے ارادے کی پختگی اور نیک نیتی ضروری ہے ۔ ریاست جموں وکشمیر پر یہ مشکل وقت ہے ،اسے تقسیم کیا جارہا ہے ،کشمیر بچا مہم کا آغا زکررہا ہوں۔جب تک آزاد جموں وکشمیر موجود ہے تو کوئی طاقت مسئلہ کشمیر کو ختم نہیں کر سکتی ، ہم نہیں ہونگے کل نئی نسل ہوگی لیکن مسئلہ کشمیر اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔ریاست کے پالیسی ساز عوام ہیں یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے ۔ ریاست جموں وکشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے ۔ ہم پر لازم ہے کہ ہمارا نام میرجعفر اور میر صادق کے ساتھ نہیں آنا چاہیے اور انشااللہ نہیں آئے گا۔رب العزت نے بھی اقتدار کو اتفاق سے قائم کرنے کا حکم دیا ہے ۔ سردار عبد القیوم صاحب نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ کشمیر کو تقسیم کرے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا یے تو ہم اس کے خلاف مزاحمت کریں گے یاد رکھیے ہمارا رقبہ اور آبادی پاکستان کے متعدد اضلاع سے کم ہے ۔ آزاد خطے کی حفاظت کیلئے سارے سیاسی قائدین لطیف اکبر ، عتیق خان ، بیرسٹر سلطان محمود سمیت جماعت اسلامی کے پیچھے چلنے کو تیار ہوں۔ اپنے حقوق اور آزادی پر کمپرومائز کر کے بے غیرتی کے ساتھ اقتدار سے نہیں چمٹے رہ سکتے ۔ آزاد جموں وکشمیر کے تشخص، ریاست کی یکجہتی اور تحریک آزاد ی کشمیر کی کامیابی کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرینگے ۔ ریاست جموں وکشمیر کے چپے چپے پر شہداکا خون ہے ۔حکومت پاکستان کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو مالیاتی اور انتظامی اختیارات حاصل کیے ہیں وہ واپس کسی صورت نہیں کرینگے ۔ کرنل خان محمد خان انگریز دور میں چار مرتبہ ممبر اسمبلی بنے ۔ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج میں بھی وزیر اعظم ہوں۔خان محمد خان نے 27ہزار افراد کو فوج میں بھرتی کیا ، تعلیم کو عام کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعودخان ، وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی، وزیر قانون سردار فاروق احمد طاہر، مشیر حکومت ضیاسردار، ممبر اسمبلی سحرش قمر،سردارعبد الخالق وصی، ملک پرویز اعوان ، سردار ارزش، حبیب ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہاکہ اپنے آبا اجداد کی قربانیوں کویاد کرنا باعث تقویت ہے ۔ لوگ کہتے تھے کہ میں وزیر اعظم نہیں بن سکتا لیکن اللہ کے فضل و کرم اور عوام کی حمایت سے جس سیٹ سے میں الیکشن ہارا تھا اسی سیٹ سے وزیر اعظم بنا ۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے انتخابات صاف وشفاف ہونے چاہیں۔ آزادکشمیر میں فری اینڈ فیئر الیکشن ہونگے ، مہاجرین کی 12نشستوں پر گڑ بڑ نہیں ہونی چاہیے اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے نتائج ہم سب کیلئے اچھے نہیں ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ سلامتی کونسل یہ واضح کر چکی ہے کہ مقامی اسمبلیاں الحاق کا اختیار نہیں رکھتیں جب مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی اسمبلی نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تو پاکستان اس کے خلاف سلامتی کونسل میں گیا۔ اپنی جماعت اور اراکین اسمبلی پر پورا یقین ہے کہ عوام کی حرمت اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے ۔ قائد مسلم لیگ ن محمد نواز شریف اورسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے آزادکشمیر کو اختیار دیے اور ہمارے دیرینہ مسائل حل کیے جس پر ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت پاکستان نے 15ارب روپے کی انتظامی بجٹ پر کٹ لگائی ہے ۔تیرہویں آئینی ترمیم ہماری حکومت کا کارنامہ ہے ۔ اللہ نے سب سے بڑا کام ختم نبوت قانون کی صورت میں ہم سے لیا جس پر اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں۔ ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے آزادکشمیر میں میرٹ بحال کر کے دکھایا ہے ۔ نائب قاصد سے لیکر کلرک تک سب کی بھرتی این ٹی ایس کے ذریعے کرینگے اور کوئی ممبر اسمبلی کسی کو روزگار نہیں دے سکے گا اور نہ ہی اس کا یہ کام ہے۔ باقی مانندہ عرصہ میں بھی عوام کی ڈٹ کر خدمت کرینگے ۔ انہوں نے کہاکہ سیز فائر لائن پر بسنے والے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو آئے روز ہندوستانی جارحیت کا سامنا کررہے ہیں۔ ہندوستان کی بزدل فوج نے سکولوں ، بازاروں ، ہسپتالوں اور ایمبولینسز کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا ۔ یہ معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے ۔مقبوضہ کشمیر کے لوگ گزشتہ ایک سال سے بدترین بھارتی فوج محاصرے میں ہیں۔ کشمیریوں کی قربانیوں کے طفیل ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہونگے۔ آزادکشمیر میں کرونا کیسز کی تعدا دمیں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے ، عوام کو اس وباسے بچانے کیلئے مزید سختی کرینگے۔ وزیر خزانہ و صحت ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان نے کہاکہ تیرہویں آئینی ترمیم ایک سنگ میل تھی ۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ترقیاتی بجٹ11ارب سے 25ارب کیا ۔ ہمارے نے گزشتہ چار سالوں میں آنیوالی نسلوں کیلئے کام کیا۔فاروق حیدرخان جیسا دلیر لیڈر نہ ہوتا تو یہ کام کبھی نہ ہوتا۔ راجہ محمد فاروق حیدرخان کی قیادت میں آزادکشمیر میں ہر شعبہ میں بہتری آئی ہے ۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے گزشتہ چارسالوں میں جرات مندانہ موقف اختیار کیا،ہم آخری دم تک راجہ محمد فاروق حیدرخان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
واپس کریں