گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن کی تیاریاں آخری مراحل میں،15 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے
No image گلگت(کشیر رپورٹ) گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن دو دن بعد،15 نومبر کو ہوں گے۔گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں میں سے ایک نشست پر امیدوار کی وفات کی وجہ سے الیکشن ملتوی کیا گیا ہے جبکہ باقی3 2نشستوں پہ15 نومبر کو الیکشن ہوں گے جس میں کل 330 امیدوارشریک ہیں۔گلگت بلتستان کی آبادی 13لاکھ جبکہ رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تین لاکھ اکاسٹھ ہزار سات سو پینتالیس ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کی کل تعداد 33 ہے جس میں سے 24 نشستوں پر براہ راست الیکشن ہوتے ہیں جبکہ چھ خواتین اور تین ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کا انتخاب کامیاب ہونے والے 24ارکان اسمبلی کرتے ہیں۔
اس الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ(ن) ۔پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز گزشتہ کئی دنوں سے گلگت بلتستان کے مختلف انتخابی حلقوں میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔کئی وفاقی وزراء بھی ' پی ٹی آئی' کے لئے مہم چلا رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن کے لئے مسلم لیگ(ن) کے آٹھ رہنمائوں کی وفاداریاں تبدیل کراتے ہوئے انہیں ' پی ٹی آئی ' میں شامل کرایا گیا ہے۔
دریں اثناء الیکشن سے چند ہی دن قبل قومی احتساب بیورو (ب)راولپنڈی نے فراڈ کیس میں سابق گورنرگلگت بلتستان میر غضنفر کے بیٹے پرنس سلیم کو گرفتار کیا ہے اور انہیں احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا۔نیب کے مطابق پرنس سلیم طلب کیے جانے کے باوجود نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے، انہیں نیشنل بینک سے 5 کروڑ روپے فراڈ کے کیس میں گرفتار کیا گیا لہذا گلگت کی متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے 7 روزہ راہداری ریمانڈ دیا جائے۔پرنس سلیم کے وکیل اسامہ خالد کے مطابق پرنس سلیم کو 10 سال پرانے کیس میں نیب نے گرفتار کیا ہے، عزت دار شخص کو بلاوجہ گرفتار کر کے عزت اچھالی جا رہی ہے، نیشنل بینک کو ساری رقم واپس مل چکی اور گرفتاری بدنیتی پر مبنی ہے،ان کا تعلق سیاسی خاندان سے ہے اور انہیں جان بوجھ کر الیکشن سے پہلے گرفتار کیا گیاہے۔احتساب عدالت نے پرنس سلیم کا 4 روزہ راہداری ریمانڈ منظورکرتے ہوئے نیب کے حوالے کر دیا۔عدالت نے نیب کو ہدایت کی کہ وہ ملزم کو 4 دن میں گلگت کی متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کرے۔نیب کے مطابق پرنس سلیم نے جعلی دستاویزات پر بینک سے 5 کروڑ کا قرض لیا تھا۔
الیکشن میں پوسٹل بیلٹ کے حوالے سے دھاندلی کی اطلاعات بھی ہیں۔آئی بیکس میڈیا نیٹ ورک سے منسلک صحافی شبیر میر کے مطابق پوسٹل بیلٹ کے لیے درخواستوں کے حوالے سے سوشل میڈیا اور وٹس آپ پر بڑی تعداد میں شکایات موصول ہو رہی ہیں، یہ درخواستیں کچھ مرحومین اور کچھ ایسے لوگوں کے نام سے ہیں جنہیں کچھ نہیں پتہ کہ ان کے نام پر ایسا کچھ ہو رہا ہے، لیکن اس سلسلے میں کوئی تحقیقات نہیں ہو رہیں، یہ درخواستیں عام لوگوں کو سرکاری ملازم ظاہر کرکے ان کے نام پر جعل سازی سے تیار کی گئی ہیں، ان میں سے کچھ تو بے روزگار ہیں اور کچھ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ صحافی فدا علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ سے پوسٹل بیلٹ کے لیے درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، کچھ درخواستیں ایسی ہیں جو ایک ہی بندے کے دستخط کے ساتھ موصول ہوئی ہیں جبکہ استور سے بھی ایسی ہی شکایات موصول ہوئی ہیں، پوسٹل بیلٹ کے لیے سینکڑوں ایسی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن میں لوگوں کے نام استعمال کیے گئے ہیں اور ان کو اس بارے میں علم نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما عباس موسوی کے مطابق جعلسازی کے حوالے سے پہلا کیس استور میں سامنے آیا تھا، جہاں تقریبا 1700 کے قریب جعلی درخواستیں موصول ہوئی تھیں اور اب گلگت کے دوسرے اضلاع سے بھی کیسز موصول ہوئے ہیں۔ عوام کو ریلوے، واپڈا اور دوسرے سرکاری اداروں کے ملازمین ظاہر کرکے ان کے نام پر درخواستیں بھیجی جا رہی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن کو اس سلسلے میں شکایت درج کروا چکی ہے۔اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن ذرائع نے بھی بے ضابطگیوں کی تصدیق کی ہے اور کہاہے کہ ہمارے پاس پوسٹل بیلٹ کے حوالے سے شکایات موصول ہو رہی ہیں اور کچھ کیسز میں انکوائری بھی جاری ہے تاکہ انتخابات کی شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھائے اور انتخابات میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔
نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان فیض اللہ فراق کے ترجمان کے مطابق جی بی کے لیے الیکشن سکیورٹی انتظامات مکمل ہیں، انتخابی ڈیوٹی کے لیے پنجاب سے 3000 پولیس اہلکار خیبرپختونخوا سے 2000، سندھ سے 500 اور بلوچستان سے 200 پولیس اہلکار طلب کیے گئے ہیں، پولیس اہلکاروں کو گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں ضرورت کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے، جی بی پولیس کے 2506 اہلکار بھی الیکشن میں ڈیوٹی دیں گے۔اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز میں جی بی اسکاٹس کے 965 اہلکار ،رینجرزکے 1700 اور ایف سی کے 100 اہلکار الیکشن عمل میں پولیس کی مدد کے لیے تعینات ہوں گے۔
واپس کریں