پاکستان فوج کشمیر میں جدید ہتھیار کیوں استعمال کرتی ہے، مودی حکومت کی طرح ہندوستانی فوج بھی غلط بیانی پر مبنی پروپیگنڈہ مہم میں مصروف
No image راولپنڈی ( کشیر رپورٹ)ہندوستان کی حکومتوں کی طرح ہندوستان کی فوج بھی غلط بیانی پر مبنی پروپیگنڈے کا بھر پور استعمال کر رہی ہے۔ کشمیر کی سیز فائر لائین پر پاکستان اور ہندوستان کی فوجوں کے درمیان بارہ اور تیرہ نومبر کو ہونے والی گولہ باری کے بعد اتوار کو ہندوستان کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف)کشمیر کے انسپکٹر جنرل ، راجیش مشرا نے سرینگر میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ '' پاکستان نے حالیہ گولہ باری میں بھاری توپ خانے اور دیگر جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا جس نے لائن آف کنٹرول(ایل او سی)کے اس طرف بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا''۔ واضح رہے کہ ہندوستانی فوج اسرائیل،مغربی ممالک اور امریکہ سے حاصل کردہ ہر جنگی ہتھیار مقبوضہ جموں وکشمیر میں رکھتے ہوئے استعمال کر رہی ہے ،ہندوستان کے پاس کوئی ایسا جدید ہتھیار ایسا نہیں ہے جو اس نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں نہ رکھا ہو،ان میں جدید توپیں،میزائیل، جدید طیارے ،جدید جنگی مواصلاتی نظام بھی شامل ہے۔ کیا ہندوستانی فوج یہ شکایت رکھتی ہے کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں پرانے،فرسودہ ہتھیاروں کی جگہ جدید جنگی ساز و سامان کیوں رکھا ہوا ہے؟

ہندوستانی حکومت تواتر سے سیز فائر لائین کی خلاف ورزیوں کا الزام پاکستان پر لگاتی ہے اور حالیہ گولہ باری میں بھی ہندوستان نے پروپیگنڈہ مہم کے علاوہ نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کار کو بھی اس حوالے سے اپنا احتجاجی مراسلہ دیا ہے۔ہندوستانی سرحدی فوج کے راجیش مشرا نے مزدید کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو شدید گولہ باری میں شہری املاک اور شہریوں کی ہلاکت کو پہنچنے والے نقصان کا نوٹس لینا چاہئے۔ تاہم دوسری طرف ہندوستانی حکومت پاکستان کے ساتھ کشمیر کی سیز فائر لائین پر '' سیز فائر '' رکھے جانے کا معاہدہ کرنے سے انکار کرتی آئی ہے۔

نئی دہلی میں متعین رہ چکے پاکستان کے سابق سینئر سفارت کار عبدالباسط نے ایک بیان میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ''پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کی سیز فائر لائین پر '' سیز فائر'' سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے ، اس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان 2013 سے ایک غیر رسمی ' انڈر سٹینڈنگ' ہے کہ ہم سیز فائر کریں گے،2015 میں جب نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ گئے تھے تو ان کی طرف سے دی گئی چار ،پانچ تجاویز میں سے ایک تجویز یہ تھی کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کی کنٹرول لائین پہ سیز فائر کی غیر رسمی ' انڈر سٹینڈنگ ' ہے ،اسے ہم ایک رسمی معاہدے میں تبدیل کر لیتے ہیں،لیکن ہندوستان نے نواز شریف،پاکستان کی اس تجویز کو منظور نہیں کیا''۔عبدالباسط نے مزید کہا کہ انڈیا اس لئے کشمیر کی سیز فائر لائین پہ پاکستان کے ساتھ سیز فائر کے معاہدے سے انکار کرتا ہے کیونکہ وہ اس حوالے سے دنیامیں پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی کنٹرول لائین پہ انڈیا نے مکمل طورپر خار دار تاروں کی باڑ نصب کر رکھی ہے جس کے ساتھ جدید الیکٹرانک سسٹم بھی منسلک ہے ، اس کے علاوہ کنٹرول لائین پہ انڈین فوج کی تین دفاعی لائنیں متعین ہیں، اس صورتحال میں انڈیا کا دعوی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بالخصوص گزشتہ تیس سال سے ہندوستان سے آزادی کے لئے کشمیریوں کی سیاسی و عسکری مزاحمتی تحریک اقوام متحدہ کے منشور اور جموں وکشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے مطالبے کے ساتھ ہی جاری ہے۔
واپس کریں