گلگت بلتستان الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی کا اعلان،مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے نتائج مسترد کر دیئے
No image گلگت۔ گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن میں تحریک انصاف نے 9 ، پیپلز پارٹی نے 3، مسلم لیگ (ن) نے 2 ،مجلس وحدت المسلمین نے ایک جبکہ 7 نشستوں پر آزاد امیدوار وں کی کامیابی کا اعلان کیا گیا ہے۔گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے لیے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں تئیس نشستوں پر الیکشن کرائے گئے جن میں سے بائیس کے غیر سرکاری نتائج سامنے آئے ہیں۔ایک نشست کے الیکشن امیدوار کے انتقال کی وجہ سے ملتوی ہوئے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے الیکشن نتائج کو مسترد کردیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارا الیکشن چرایا گیا ہے جبکہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے طرف سے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
مریم نواز نے کہا ہے کہ سرکاری مشینری کا زور زبردستی اور جبر کے ہتھکنڈوں سے وفاداریاں تبدیل کرانے اور بدترین دھاندلی کے باوجود سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا پی ٹی آئی کے لئے شرمناک شکست ہے، ہارنے والوں کو لوٹا پارٹی سے دگنی سیٹوں کا ملنا کٹھ پتلی پر عوام کا عدم اعتماد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور وفاق کی طرح سادہ اکثریت نہ ملنے کے باوجود پی ٹی آئی کو بیساکھیاں فراہم کرکے حکومت تو بنوا دی جائے گی لیکن اس آئینے میں اپنا چہرہ ضرور دیکھو جو گلگت بلتستان کے عوام نے تمہیں دکھایا ہے۔
مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان میں سب سے بڑے جلسے کیے لیکن انتخابات میں ووٹوں پر ڈاکا ڈالا گیا، اب کراچی سے پشاور اور گلگت تک احتجاج کیا جائے گا، دھاندلی والے انتخاب سے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان اور مسلم لیگ( ن )کے رہنما حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ لیکشن سے ایک دن پہلے 4 وفاقی وزرا لوگوں میں پیسے بانٹ رہے تھے، کل الیکشن میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی، نیا پاکستان بنانے کے لیے گلگت بلتستان میں امن خراب کرایا جا رہا ہے، یہ دوسرا بزدار گلگت بلتستان میں لانا چاہتے ہیں۔مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کے اقدامات کے الزامات لگائے تھے جن میں امیدواران کی وفاواریاں تبدیل کرانا، سکیمیں دینا و دیگر امورشامل ہیں۔
واپس کریں