امت شاہ کے '' گپکار گینگ'' کے الزام پہ فاروق عبداللہ اور گپکار لیڈروں کے خود کو بھارتی وفادار ثابت کرنے کے بیانات
No image سرینگر ( کشیر رپورٹ)بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے گپکار اتحاد کو '' گپکار گینگ'' قرار دینے پر فاروق عبداللہ نے خود کو بھارت کا وفادار قرار دینے کی یقین دہانی کرانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے ردعمل میںکہا ہے کہ جو ' بی جے پی' کے ساتھ نہیں وہ ان کی نظر میں بھارت کے غدار ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں سات بھارت نواز سیاسی جماعتوں کے' گپکار اتحاد 'کے سربراہ فاروق عبداللہ نے 'انڈیا ٹو ڈے' سے گفتگو میں کہا کہ وزیر داخلہ کے عہدے پہ فائز امت شاہ کو ایسی بات نہیں کہنا چاہئے تھی، امت شاہ کو تاریخ نہیں معلوم کہ فاروق عبداللہ نے بھارت کے لئے کیا کیا خدمات انجام دی ہیں۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ ' بی جے پی' بھارت کے سیکولر ازم کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ دوسری طرف حکمران ' بی جے پی' کے سنیئر رہنما اوروزیر داخلہ امت شاہ نے اس حوالے سے انڈین کانگریس کے رہنمائوں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے بھی سوال کیا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ کیا وہ بھارت کے مخالف '' گپکارگینگ'' کی حمایت کرتی ہیں اور کیا ان کے ان بیانات کی حمایت کرتی ہے جس میں گپکارکے لیڈروں نے مسئلہ کشمیر میں عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے کہا کہ آزادی کے فوری بعد ' آر ایس ایس' پر اسی لئے پابندی رہی کہ انہوں نے انڈیا کے قومی پرچم کو پائوں تلے روندا ، اور آج وہی انڈیا کے جھنڈے کی حرمت کی بات کرتے ہوئے گپکار اتحاد پر تنقید کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ' بی جے پی' والے ہوتے کون ہیں محب وطنی کے سرٹیفیکیٹ دینے والے؟واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی' پی ڈی پی ' کی سربراہ محبوبہ مفتی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کئے جانے تک انڈیا کا جھنڈا سامنے رکھنے سے انکار کیا ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ اپنے ٹوئٹ بیان میں کہا تھا کہ ''جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ رہا ہے ، ہے اور رہے گا۔ ہندوستانی عوام اب ہمارے قومی مفاد کے خلاف کسی غیر مہذب عالمی گٹھ بندھن کو برداشت نہیں کریں گے۔ یا تو گوپکار گینگ قومی مزاج کے ساتھ تیراکی کریں ورنہ لوگ اسے ڈوبیں گے۔کانگریس اور گپکار گینگ جموں و کشمیر کو دہشت گردی اور ہنگاموں کے دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔ وہ دلتوں ، خواتین اور قبائلیوں کے حقوق چھینا چاہتے ہیں جو ہم نے آرٹیکل 370کو ختم کرکے یقینی بنائے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں ہر طرف سے مسترد کیا جارہا ہے''۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جوابی ٹوئٹ میں کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے اور جمہوری عمل کی حمایت کرنے پر صرف جموں و کشمیر میں ہی لیڈران کو حراست میں لیا جاسکتا ہے اور انہیں ملک دشمن بھی کہا جاسکتا ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ وہ سبھی جو بی جے پی کے نظریہ کی مخالفت کرتے ہیں، ان پر کرپٹ اور ملک دشمن کی لیبل چسپاں کی جاتی ہے۔کانگریس کے مقبوضہ جموں وکشمیر میں صدر غلام احمد میر نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کو اشتعال انگیز اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کو بھاجپا سے قوم پرستی پر سبق سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدور ناصر اسلم وانی، دیوندر سنگھ رانا، اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبرلون، حسنین مسعودی اور خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے اپنے مشترکہ بیان میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ جو بھی بھاجپا کے نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اسے کورپٹ اور ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ آزاد بھارت میں شائد ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ جمہوریت کی عزت کرنے والوں اور الیکشن میں حصہ لینے والوں کیساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ الائنس بنا کر انتخابات میں حصہ لینا بھی اب ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے، بی جے پی خود حصول اقتدار کے لئے کئی الائنسز بنا سکتی ہے لیکن ہم لوگ الیکشن کے لئے متحدہ محاذ بنا کر قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

واپس کریں