پاکستان اور بھارت کے درمیان غیر روایتی جنگ جاری ہے، سابق چیف 'آئی ایس آئی' اسد درانی
No image نئی دہلی ( کشیر رپورٹ) ' آئی ایس آئی ' کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل رہٹائرڈ اسد درانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں ،یہ باقاعدہ جنگ نہیں ہو گی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان الگ طرح کی جنگ جاری ہے،بھارت کی طرف سے آرٹیکل370 کی منسوخی کی طرح کے اقدامات کی صورتحال میں کشیدگی میں شدت آ سکتی ہے تاہم یہ روایتی جنگ نہیں ہو گی۔
انڈیا کے جریدے ' ویک' کے ساتھ گفتگو میں اسد درانی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان '' ٹریک ٹو'' کی سفارت کاری کے بامعنی ہونے کے امکان کے سوال کے جواب میں کہا کہ دنوں ملکوں کے درمیان '' ٹریک ٹو '' ایک سرکس ہے،ہم نے 1998 میں ایٹمی تجربات کے بعد اس کا آغاز کیا تھا جن میں سے کچھ میں میں نے بھی حصہ لیا،اسلام آباد اور دیلی '' ٹریک ٹو'' کی بات چیت کے نتیجے کا انتظار نہیں کرتے،اصل بات یہ ہے کہ '' ٹریک ٹو'' کے بعد کیا کرنا ہے۔
حال ہی میں اسد درانی کی مزید ایک کتاب انڈیا میں شائع ہوئی ہے۔']آنر امنگ سپائیز(Honour among Spies)کے نام سے یہ کتاب افسانوی انداز میں لکھی گئی ہے اور اس میں پاکستان فوج اور حکومت کے عہدیداران کے تذکرے میں ان کے لئے فرضی نام استعمال کئے گئے ہیں۔ '' سپائی کرانیکلز'' شائع ہونے کے بعد پاکستان فوج کی طرف سے اپنے خلاف تحقیقات کا ذکر بھی کیا ہے، ' آئی ایس آئی ' اور اسٹیبلشمنٹ کے تذکرے کے حوالے سے بھی اس کتاب کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ لیفٹنٹ جنرل رہٹائرڈ اسد درانی انیس سو نوے سے ترانوے تک ' آئی ایس آئی ' کے سربراہ رہے اور اسی دور میں مقبوضہ جموںو کشمیر میں انڈیا کے خلاف کشمیریوں کی آزادی کی مسلح مزاحمتی تحریک شروع اور تیز ہوئی۔
واپس کریں