آزادکشمیر میں آئندہ سال کے اسمبلی الیکشن کی تیاریاں شروع، حکومت نے الیکشن کمیشن کو ابتدائی طور پر پندرہ کروڑروپے جاری کر دیئے
No image مظفر آباد۔آزاد جموں وکشمیر میں آئندہ سال منعقد ہونے والے اسمبلی الیکشن کے لئے تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اور ووٹر فہرستوں کی ' نادرا' سے تصدیق کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے لئے ضروری انتظامات شروع کر دیئے ہیں۔بیرون ملک تارکین وطن ڈالنے کے ساتھ الیکشن میں حصہ بھی لے سکتے ہیں۔حکومت نے انتظامات کے لئے الیکشن کمیشن کو ابتدائی طور پر پندرہ کروڑ روپے فراہم کر دیئے ہیں۔
تفصیلا ت کے مطابق سردار فاروق احمد طاہر، وزیر قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق، آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں موجودہ حکومت اپنا (05) سالہ مدت پورے کرنے سے پہلے آزاد جموں وکشمیر میں عبوری آئین 1974 کے تحت عوام کو اپنے نمائندگان منتخب کروانے کے لیے ضروری انتظامات عمل میں لا رہی ہے۔ جبکہ آزاد جموں وکشمیر عبوری دستور 1974 کے تحت غیر جابندارانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد عمل میں لانے کے لیے آزاد جموں وکشمیر الیکشن کمیشن موجود ہے، جو الیکشن کے انعقاد کے لیے ووٹر فہرستیں NADRA کے ذریعہ Verify کروا رہا ہے۔ حکومت نے الیکشن کمیشن کو الیکشن کے انتظامات کے لیے 15 کروڑ روپے پیشگی طور پر مہیا کر دیے ہیں۔ حکومت الیکشن شفاف اور دھاندلی سے پاک کروانے کا مصمم ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن کو جو اانتظامی اور مالی مدر درکار ہے وہ ہر صورت حکومت مہیا کرئے گی۔ الیکشن کے حوالہ سے ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کے انعقاد کے سلسلہ میں جملہ امور الیکشن کمیشن کو ایکٹ 1974 کے تحت ہی طے کرنے ہیں جب کہ حکومت اس حوالہ سے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھائے گی۔آزاد جموں وکشمیر میں آمدہ انتخابات کے حوالہ سے وزیر قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق سردار فاروق احمد طاہر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیر قانون نے مزید کہا کہ آزاد جموں وکشمیر کے آئین کی رو سے الیکشن سے پہلے آزاد کشمیر میں نگران حکومت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ آزاد کشمیر میں جمہوری عمل پچھلے 35 سال سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ پاکستان میں اگر جمہوری عمل میں رکاوٹ بھی آئی تو آزاد کشمیر میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پچھلی حکومتوں نے کسی بھی مرحلہ پر الیکشن کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی اور موجودہ حکومت جمہوری عمل کے تسلسل میں بغیر روک ٹوک کے جاری رکھنے پر بھرپور یقین رکھتی ہے اور آئندہ الیکشن اس جذبہ کے تحت منعقد ہوں گے۔ الیکشن کے سلسلہ میں وفاقی وزرا کا بیان انتہائی نامناسب ہے۔ ان کا کوئی رول یا ذمہ داری نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کی ایک الگ حیثیت اور اپنا آئین ہے اور جو کچھ بھی ہو گا صرف آئین کے مطابق ہی ہوگا۔ اس لیے وہ ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جس سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہوں۔بیرون ملک کشمیر ی تارکین وطن کو ووٹ دیئے جانے کے حوالہ سے وزیر قانون نے کہا کہ کشمیری تارکین وطن جن کا اندراج ووٹر لسٹ میں درج ہے وہ نہ صرف ووٹ دینے کے اہل ہیں بلکہ الیکشن میں حصہ بھی لے سکتے ہیں، ابھی تک پاکستان میں بھی کوئی ایسا نظام وضع نہیں کیا جا سکا جس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی باشندگان حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔ اس سلسلہ میں حکومت پاکستان جو نظام وضع کرے گی اس کا جائزہ لیا جا کر اس وقت آزا دکشمیر میں بھی ممکنہ حد تک اس کو اپنایا جاسکتا ہے۔ لہذا ا س ضمن سے بیرسٹر سلطان محمود کا بیان صرف سیاسی پوائنٹ سکور ہے۔ آزاد کشمیر کے آئین میں سمندر پار تارکین وطن کیلئے ایک نشت بھی مخصوص ہے جس پر ان کو نمائندگی بھی ملتی ہے جبکہ پاکستان کے آئین میں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں۔ ان کے آئندہ الیکشن میں حصہ لینے پر کسی طر ح کی حکومت رکاوٹ پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ریاستی الیکشن میں کسی طرح کا بیرونی دبا یا مداخلت نہیں ہو گی کیونکہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں موجودہ حالات کاتقاضا بھی ہے کہ شفاف الیکشن کے ماحول کو سازگار رکھا جائے اور تنازعات جنم لینے والے واقعات سے کماحقہ اجتناب کیا جائے۔

واپس کریں