وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی زیر صدارت کورونا صورتحال کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس
No image مظفر آباد۔وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ لاک ڈا ئون کے دوران طے شدہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا،ماسک کی مکمل پابندی ہوگی۔ سوموار کو آزادکشمیر بھر میں یوم دعا منایا جائے گا۔ مساجد اور نماز جنازہ میں بھی ایس او پیز کی مکمل پاسداری کروائی جائے گی۔ لاک ڈائون کے کابینہ کے فیصلے پرعملدرآمد کروانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا ، خلاف ورزی کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن مسنوخ کر دی جائے گی، سیکرٹریٹ سمیت ضروری دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کو خصوصی کارڈز جاری کیے جائیں گے ۔ سکولوں میں محدود کلریکل سٹاف حاضر رہے گا ۔ تعمیرات پر پابندی نہیں ،تعمیراتی میٹریل والی دوکانیں مقررہ وقت پر کھلیں گی ، جن لوگوں شادی وغیرہ کا پروگرام طے کیا ہے اس کو خاندان تک محدود کرینگے ، ٹینٹ سروس مکمل طور پر بند ہوگی ، ایسے تعلیمی ادارے جن کے امتحانات جاری ہیں یا شروع ہورہے ہیں ایس او پیز کے تحت اس کو مکمل کرینگے ۔ مقامی صورتحال دیکھتے ہوئے انتظامیہ ردبدل کریگی ، تارکین وطن سے بھی گزارش کی جائے گی کہ وہ لاک ڈان کے دوران تعاون کریں اور انتہائی ناگزیر صورت میں ہی آزادکشمیر کا رخ کریں ۔ اس حوالہ سے اعلی سطحی اجلاس وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی ، پرنسپل سیکرٹری، ڈویژنل کمشنرز،ڈی آئی جیز ،ڈپٹی کمشنر نے بذریعہ ویڈیو لنک شر کت کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ نے بتایا کہ آزادکشمیر میں کرونا وائرس کی ہیت میں تبدیلی آ گئی ہے اور اب اس کے خلاف دی جانے والی ادویات غیر موثر ہورہی ہیں اور قوت مدافعت کم ہورہی ہے جس کے باعث شہریوں کی اموات کی غیر معمولی شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔ جتنی اموات موجودہ لہر کے دوران اب تک ہوئی ہیں اتنی اموات اکتوبر تک نہیں ہوئیں تھیں۔اگر اس کے پھیلا کو روکنے کے لیے یہ سخت اقدام نہ اٹھایا جاتا تو شاید ہم اس قابل نہ رہتے کہ ہم اس وباسے نمٹ سکیں۔ انہوں نے کہاکہ دوسری لہر میں کرونا وائرس جو کہ تبدیل شدہ شکل میں انتہائی خطرناک اور مہلک ہے اور یہ بہت تیزی سے انسان کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے ۔ بہت سارے مریضوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ اس کے حملے کے بعد چنددنوں اور بعض اوقات چند گھنٹوں میں مریض وفات پا جاتا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ کابینہ نے متفقہ طور پر عوام اور ان کے بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے لاک ڈان کا فیصلہ کیااس میں حکومت کا کوئی فائدہ نہیں ، جس تیزی سے یہ وباپھیل رہی ہے اس کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ کون بچے گا اور کون محفوظ رہے گالیکن احتیاط اور اپنے آپ کو محدود کر کے ہی اس سے نمٹ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اپیل کی کہ آئندہ سوموار کو آزادکشمیر کے لوگ یوم دعا منائیں ، اللہ رب العزت کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اس سے مدد مانگیں کہ وہ ہمیں نبی رحمت ۖ کے صدقے اس وباسے چھٹکارا پانے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے ۔ نبی رحمت ۖ نے بھی وباکے دوران خصوصی ہدایات دی تھیں ان پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سماجی دوری اختیار کریں ، وباوالی جگہ پر نہ جائیں ، اگر اللہ رب العزت ہمیں اس سے محفو ظ رکھتا ہے تو یہ بہت بڑا کرم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے ۔ کابینہ سب سے بااختیار فورم ہے ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف انتظامیہ سختی سے نمٹے گی۔ اسی طرح کا لاک ڈان ہو گا جیسا پہلے تھا ۔اب تک حکومت نے اپنی بساط کے مطابق اقدامات اٹھائے اور اخراجات کیے ہیں ، حالیہ مرحلہ سب سے مشکل اور خطرناک ہے ،ہم سب کو ملکر اس سے نکلنا ہے اور ایک قوم بن کر اس سے نمٹنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پہلے کی نسبت اب چار گنا زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ، سماجی فاصلے کا خاص خیال رکھیں اور احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ وائرس کا سائیکل ایک مرتبہ ٹوٹ گیا تو اس کے بعد ایس او پیز کی پاسداری سے ہم اپنے معاملات زندگی چلا سکیں گے اسی لیے پندرہ روزہ لاک ڈان کیا ہے تاکہ اس وباکی چین کو توڑا جا سکے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کرونا وائرس کے پھیلا کو روکنے کے حوالے سے آزادکشمیر پہلے ایک مثالی خطہ تھا مگر حالیہ لہر کے دوران جس تیزی سے کرونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے انتہائی تشویشناک ہے اور پازٹیو کیسز کی شرح اس وقت انتہاکو چھو رہی ہے ، اس لیے شہریوں کی زندگیاں بچانا انتہائی ناگزیر ہے حکومت شہریوں کی جانوں کی حفاظت کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریگی۔
واپس کریں