جموں کے قریب نگروٹہ میں جھڑپ کا پراسرار واقعہ
No image سرینگر(کشیر رپورٹ) جموں کے قریب نگروٹہ کے ٹول پلازہ پہ گزشتہ روز ہونے والی جھڑپ کا واقعہ ایک معمہ بنا ہو ا ہے۔ بھارتی فوج نے دعوی کیا تھا کہ ایک ٹرک میں چار مسلح افراد چھپ کر مقبوضہ کشمیر داخل ہونا چاہتے تھے۔ ٹرک کو جب ٹول پلازہ پہ چیکنگ کے لئے روکا گیا تو اس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا اور ٹرک سے فورسز پر فائرنگ شروع ہو گئی جس سے جوابی فائرنگ میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعہ کی ایک وڈیو میں دیکھا گیا کہ بھارتی فورسز ایک ٹرک پہ فائرنگ کر رہی ہیں اور اس ٹرک میں آگ لگی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلے ایک معمول بن چکے ہیں جن میں بھارتی فورسز گرفتار کشمیری نوجوانوں کو ہلاک کر کے مقابلے کا ڈھونگ رچاتی ہے۔اس واقعہ میں بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ جھڑپ دو گھنٹے جاری رہی،اگر جھڑپ دو گھنٹے جاری رہتی تو مسلح افراد لازمی طورپر ٹرک سے نکلنے کی کوشش کرتے ۔یہاں اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ واقعہ بھارت کی پروپیگنڈہ مہم کا ایک حصہ ہے۔
بھارتی فوج کے مطابق جمعرات کوصبح تقریبا5بجے بن ٹول پلازہ نگروٹہ کے نزدیک تعینات ایک ناکہ پارٹی نے جب جموں کی جانب آرہی ایک ٹرک کورکنے کااشارہ کیا تواس میں موجود اسلحہ برداروں نے فائرنگ شروع کردی ،جسکے نتیجے میں پولیس کی اسپیشل آپریشن ونگ یعنی ایس اوجی سے وابستہ 2اہلکار کلدیپ راج ساکنہ اکھنور اور محمد اشفاق ملک ساکنہ نیل قاسم بانہال رام بن زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے انہیں بعد ازاں گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کیا گیا،جہاں دونوں زخمی اہلکاروں کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے ۔آئی جی پی جموں مکیش سنگھ نے بتایاکہ ایک ٹرک میں سوارجنگجووں کی جانب سے ناکہ توڑ کر فرارہونے کی کوشش کے تحت فائرنگ کئے جانے کے بعدفوری طورپرفوج ،فورسزاورایس اوجی کی مزیدکمک طلب کی گئی ،جنہوں نے پورے علاقہ کومحاصرے میں لیکر جنگجووں کیخلاف فیصلہ کن آپریشن شروع کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگجووں کی ابتدائی فائرنگ کے بعد فوجی اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور طرفین کے درمیان باضابطہ طور پر گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔پولیس کے صوبائی سربراہ جموں مکیش سنگھ نے جموں میں پولیس وفورسزافسروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایاکہ مزید فورسزکمک پہنچتے ہی گاڑی میں سوار جنگجووں کیخلاف کارروائی تیز کردی گئی ۔انہوں نے بتایاکہ بن ٹول پلازہ نگروٹہ کے مقام پر جنگجووں اورسیکورٹی فورسزکے درمیان جھڑپ شروع ہوتے ہی سری نگرجموں شاہراہ کوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بندکیاگیا۔آئی جی پی کاکہناتھاکہ جنگجووں کایہ گروپ ایک مال بردار گاڑی میں سوار ہوکرآگے بڑھنے کی کوشش کررہاتھا لیکن متحرک ناکہ پارٹی نے گاڑی کوبروقت روک کر جنگجووں کی کوشش ناکام بنادی ۔انہوں نے بتایاکہ طرفین کے درمیان لگ بھگ دوگھنٹے تک گولیوں کاتبادلہ جاری رہا،اوراس دوران 4جنگجومارے گئے ،جوممکنہ طورپر حالیہ دنوں میں سرحدپارسے دراندازی کرکے اسپار داخل ہوئے تھے اوراب ضلعی ترقیاتی انتخابات میں خلل ڈالنے کیلئے داخل ہونے کی کوشش میں تھے۔آئی جی پی کاکہناتھاکہ ابتدائی شواہدسے لگتاہے کہ مارے گئے چاروں جنگجووںکاتعلق جیش محمدتنظیم سے تھا۔انہوں نے کہاکہ جنگجووں اورسیکورٹی فورسزکے درمیان گولیوں کاتبادلہ شروع ہونے کے بعدگاڑی کاڈرائیور وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔جموں کے انسپکٹر جنرل آف پولیس مکیش سنگھ نے کہاکہ جائے جھڑپ سے مارے گئے چاروں جنگجووں کی نعشوں کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں اسلحہ وگولی بارود برآمد کیاگیا،جن میں 11،اے کے 47رائفلیں ،3پستول ،29 گرینیڈ،6 یوبی جی لانچر،موبائل فون،کئی بلٹ پروف جیکٹ اورقطب نماشامل ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ جس ٹرک میں جنگجومیں سوار تھے ،اس کوضبط کیاگیا تاہم اسکا ڈرائیور جائے جھڑپ سے فرار ہوکرروپوش ہوگیا ہے ،اوراسکی تلاش بڑے پیمانے پرشروع کی گئی ۔آئی جی پی جموں کامارے گئے جنگجووں کے منصوبوں کے بارے میں کہناتھاکہ ہمیں پہلے ہی ایسی اطلاعات ملی تھیں کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں خلل ڈالنے کیلئے جنگجودرانداز ی کرکے اسپار داخل ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں ،اسلئے ہم نے قبل ازوقت کسی بھی ایسی کوشش کوناکام بنانے کیلئے سخت حفاظتی اقدامات روبہ عمل لائے تھے ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ مارے گئے جنگجو حالیہ دنوں میں دراندازی کرکے یہاں داخل ہوئے تھے۔

واپس کریں