انڈیا کے ساتھ گہرے اشتراک کے باوجود امریکہ کشمیر کے بارے میں انڈیا کی پوزیشن کی توثیق نہیں کر رہا
No image نئی دہلی(کشیر رپورٹ) انڈیا کو اس بات پہ شدید تشویش ہے کہ امریکہ کشمیر کے بارے میں انڈیا کے دعوے کی توثیق نہیں کرتا ہے، انڈیا کو توقع ہے کہ امریکہ کے ساتھ'' BECA '' کی طرح کے معاہدوں سے کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی آ سکتی ہے تاہم انڈیا کے حکام یہ بات بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن ،جو کشمیر کے حوالے سے انڈیا پر تنقید کرتے آئے ہیں،ان کے عہد میں کشمیر کے بارے میں امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی ستمبر2020 میں جاری ہونے والی'' چائنا ملٹری پاور رپورٹ2020'' کے حوالے سے '' یو روشئین ٹائمز'' میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے بارے میں امریکی وزارت دفاع کی اس سال ستمبر میں شائع رپورٹ میں جاری نقشوں کے حوالے سے بھی انڈیا میں تشویش پائی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی انڈیا کی طرف سے صدر ٹرمپ کی طرف سے جاری ان نقشوں کا تذکرہ بھی کیا جا رہا ہے جس میں امریکہ نے کشمیر کو الگ ریاست کے طور پر ظاہر کیا ہے۔
انڈین حکام ا س بات پہ گہری تشویش رکھتے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ گہرے اشتراک کے باوجود امریکہ کشمیر کے بارے میں انڈیا کی پوزیشن کو مسلسل تسلیم نہیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے امریکہ کی پرانی پالیسی چلی آ رہی ہے۔انڈیا حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اپینٹاگان کی طرف سے کشمیر سے متعلق انڈیا کے دعوے کی تردید کا سلسلہ جاری ہے تاہم انڈیا کو توقع ہے کہ امریکہ ا ور انڈیا کے درمیان '' BECA '' کے طرح کے معاہدوں سے امریکہ کی جموں و کشمیر کے بارے میں تشریح میں تبدیلی آ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن انڈیا کی مودی حکومت پر کشمیر کے حوالے سے تنقید کرتے آئے ہیں اور اس صورتحال میں امریکہ کی طرف سے کشمیر پر پالیسی کی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا۔
واپس کریں