مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر کے ہر طبقے کے خلاف سرگرم ہیں، جلد ہی کشمیر کے باشندے اقلیت بن جائیں گے،رپورٹ
No image سرینگر۔ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر میںہر طبقے، فرقے یا نسل سے وابستہ افراد بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی کا ہدف ہیں اور خطے کا مسلم کردار ختم کرنے کے مربوط پروگرام پر کام تیزی سے جاری ہے، ہندوستانی حکومت نے کشمیر کی شاداب وادیوں میں ایک سو سے زائد میگا صنعتی منصوبوں کی منظوری بھی دے دی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ جلد ہی وہ دن آئے گا جب کشمیر انبانیوں اور اڈانیوں کی جاگیر ہو گی جب کہ بے گھرکشمیری اپنے ہی باغات میں یومیہ اجرت پر کام کرتے نظر آئیں گے۔
مقبوضہ کشمیر کی معروف صحافی نعیمہ احمد مہجور نے '' برطانوی اطلاعاتی ادارے '' انڈی پینڈنٹ'' میں شائع اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ''جموں و کشمیر کے 15 لاکھ سے زائد خانہ بدوش جو زیادہ تر گجر اور بکر وال برادری سے تعلق رکھتے ہیں، آج کل بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو توا پالیسیوں کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں عام رائے ہے کہ ان کی اکثریت تن من سے ہندوستانی ہے اور آزادی تحریک میں ان کا کوئی خاص کردار نہیں رہا ہے۔میڈیا چینلوں پر ان کے عارضی گھر گرانے، انہیں بے گھر کرنے کی حالیہ کارروائیوں کی براہ راست نشریات پر عوامی اور سیاسی حلقوں نے گہرے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چند خانہ بدوش قبیلوں پر یہ الزامات عائد ہوتے آ رہے ہیں کہ 1990 کی مسلح تحریک میں سرحد پار کرانے میں انہوں نے نوجوانوں کی مدد کی تھی، مگر ہندوستانی سیاسی جماعتوں نے انہیں ہمیشہ اپنے کھاتے میں محفوظ ووٹ بنک تصور کیا ہے۔ پہاڑوں، بیابانوں اور جنگلوں میں گھومنے والے ان قبیلوں کی بہبود، تعلیم اور رہائش کے بارے میں کسی بھی سیاسی جماعت نے سنجیدگی سے کبھی نہیں سوچا۔ ان کی 98 فیصد آبادی ناخواندہ اور ملازمتوں سے محروم ہے مگر یہ محنتی، مذہبی اور اپنی مخصوص روایات کو عزیز رکھنے والے غیرت مند لوگ ہیں۔''
نعیمہ مہجور لکھتی ہیں ہیں ''ریاست کو یونین ٹریٹری میں منتقل کرنے کے بعد سو سے زائد مرکزی قوانین کشمیر پر لاگو کیے گئے مگر فاریسٹ ایکٹ 2006 کو لاگو نہیں کیا گیا جس کی رو سے خانہ بدوشوں کو یہ سارے حقوق دوبارہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ مگر انہیں خدشہ ہے کہ وہ اس قانون میں ردوبدل کر کے ان کو ماحول بچانے کی آڑ میں مٹی کے بنائے ہوئے کوٹھوں سے بھی بے دخل کیا جائے گا۔ 2018 میں رسانہ کٹھوعہ میں سات برس کی بچی کی آبرو ریزی اور ہلاکت کے بعد ان کو ہراساں کرنا، جموں سے نکالنا اور جنگلوں میں عارضی مسکن بنانے سے روکنا اس منظم کاروائی کا سلسلہ تصور کیا جاتا ہے جو خطے میں مسلمانوں کو اپنی زمین اور جائدادوں سے بے دخل کرنے کا بی جے پی کا منصوبہ ہے، جس کی شروعات پانچ اگست 2019 کے اندرونی خودمختاری ختم کرنے کے مرکزی فیصلے سے بھی پہلے ہوئی ہے۔''
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ''جموں میں مسلمان انتہائی خوف زدہ ہیں جو بر صغیر کے بٹوارے کے دوران سنہ 47 کی اس خون ریزی کو اب تک نہیں بھولے۔ بعض خبروں کے مطابق جن سنگھیوں اور مہاراجہ کی ڈوگرہ فوج نے تین سے پانچ لاکھ مسلمانوں کو قتل اور لاکھوں کو گھر بار چھوڑ کر سرحد پار کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ جموں کے ایک صحافی کہتے ہیں، ایسے حالات جان بوجھ کر پیدا کیے جا رہے ہیں کہ جموں میں چند فیصد بچے کچھے مسلمان بھی یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔چند ہفتے قبل جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے روشنی ایکٹ کو ناجائز اور غیر آئینی اقدام قرار دے کر اس کی مرکزی ادارے سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے کے فورا بعد جموں کے مسلم اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بیشتر تعمیرات کو منہدم کرنا شروع کر دیا گیا جس کی مذمت کرتے ہوے مین سٹریم رہنماں نے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے کشمیری مسلمانوں کو اپنی جائیداد سے بے دخل کرنے کا بی جے پی کامنصوبہ ہے۔گجر بکر وال کے خلاف نفرت پھیلانے، ان پر مویشی چرانے کا الزام لگانے اور جنگل کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے جیسی باتیں پھیلا کر ان کو جموں کے ڈوگروں میں مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ اس کی کڑی رسانہ ریپ سے ملتی ہے جب ایکتا منچ اور بی جے پی کے وزرا نے ریپ کے مجرموں کے حق میں جلوس نکالے تھے۔ جب ہندوستان کے 22 کروڑ مسلمانوں سے شہریت چھیننے کی کارروائی کی جارہی ہے تو بے چارے یہ غریب اور نادار گجروں کی کیا اوقات جن کے دفاع کے لیے قانون کے ادارے بھی بی جے پی کی زبان بولتے ہیں''۔
واپس کریں